اسلام آباد(9 نومبر 2025): کال سینٹرز سے ماہانہ کروڑوں روپے بھتہ، غیرقانون دھندے کی پشت پناہی کے الزامات میں گرفتار کیے گئے این سی سی آئی کے 13 افسروں کیخلاف کرپشن اسکینڈل میں ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔
ذرائع ایف آئی اے کے مطابق این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل میں ہوشربا انکشافات سامنے آگئے، راولپنڈی میں 15 غیر قانونی کال سنٹرز سے 15 ملین روپے ماھانہ وصول کیا جاتا تھا، ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد حیدر کی ٹیم یہ رقم فرنٹ میں حسن امیر کے زریعے وصول کرتی تھی۔
ذرائع ایف آئی اے کا بتانا ہے کہ 120 ملین ستمبر 2024 سے اپریل 2025 تک وصول کئے گئے، سب انسپکٹر بلال نے نئے کال سنٹر کے لئے آٹھ لاکھ روپے ماھانہ طے کیا تھا، یہ ڈیل اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں کال سنٹر پر چھاپہ مار کرطے کی گئی تھی۔
ایس ایچ او میاں عرفان نے وہ ڈیل 40 ملین روپے میں فائنل کی، مئی 2025 میں عامر نذیر کو راولپنڈی آفس کی کمانڈ دیدی گئی، ندیم خان ڈپٹی ڈائریکٹر اور صارم علی بطور سب انسپکٹر تعینات ہوئے جس کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان علوی بھی اس ٹیم کا حصہ بن گئے اور اس ٹیم نے بھی 15ملین روپے بھتہ لینے کا سلسلہ جاری رکھا۔
ذرائع نے بتایا کہ سب انسپکٹر صارم نے اپنا ایک منشی محی الدین کو فرنٹ میں رکھ لیا، راولپنڈی میں ایک کال سنٹر پر چھاپہ مار کر 14 چینی شہریوں کو گرفتار کیا، صارم نے اپنے فرنٹ مین کے زریعے ہی چینی شہری کیلون کی بیوی سے رابطہ کیا، چینی شہری کیلون نے پاکستانی خاتون عریبہ رباب سے شادی کی تھی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ خاتون نے شوہر کی بازیابی کے لئے 8 ملین روپے فراہم کئے، باقی 13 چینی شہریوں کی رہائی کے لئے 12 میلن روپے وصول کئے گئے، صارم نے عریبہ کے شوہر پر تشدد کیا اور وڈیو بنا کر عریبہ کو بھیجی جس کے بعد قانونی لوازمات پورے کرنے کے لئے مزید ایک ملین وصول کیا۔
ذرائع کے مطابق اس چھاپے سے 21 ملین روپے کی حاصل رقم تقسیم کی گئی، صارم علی نے 1.7 ملین، عثمان بشارت 1.4 ملین، ظہیر عباس کو ایک ملین دیا گیا، ڈپٹی ڈائریکٹر ندیم نے عثمان بشارت کے آفس سے 9.5 ملین حاصل کیے، ایڈیشنل ڈائریکٹر عامر نذیر 7 ملین ادا کئے اور 2.7 ملین ندیم نے خود رکھے۔
ایف آئی اے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں۔


