The news is by your side.

Advertisement

این سی او سی کا سندھ میں بڑھتے کرونا کیسز پر اظہار تشویش

اسلام آباد: کرونا وبا کی دوسری لہر میں پاکستان کے کن کن سے شہروں میں مثبت کرونا کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، این سی او سی نے اعداد وشمار جاری کردئیے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ملک کے چیف سیکریٹریز نے ویڈیو لنک کے زریعے شرکت کی، اس موقع پر کرونا کے پھیلاؤ، مثبت کیسز کی شرح اور کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں متعلقہ وفاقی وصوبائی حکام نے این سی او سی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں مثبت کرونا کیسز کی مجموعی شرح 9.71 فیصد ہوگئی ہے،ملک بھر میں سب سے زیادہ مثبت کیسز کی شرح کراچی میں 21.31فیصد ہے، ایبٹ آباد میں 17.86،پشاور میں16.66فیصد ہے، جبکہ آزادکشمیر میں مثبت کرونا کیسز کی شرح 11.93 ہے،گلگت بلتستان میں 2.89 فیصد ہے، اسلام آباد میں مثبت کورونا کیسز کی شرح 8.20فیصد ہے۔این سی او سی کو بتایا گیا کہ صوبے کی بنیاد پر سب سے زیادہ مثبت کیسز سندھ میں ریکارڈ کئے جارہے ہیں، اس وقت صوبہ سندھ میں مثبت کرونا کیسز کی شرح 15.83فیصد ہے، خیبرپختونخوا میں مثبت کروناکیسز کی شرح 8.22فیصد ہے، پنجاب میں مثبت کروناکیسز کی شرح 5.54فیصد ہے، بلوچستان میں مثبت کرونا کیسز کی شرح 11.61فیصد ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں81فیصد مثبت کورونا کیسز کا تعلق بڑے شہروں سےہے،گزشتہ دو ہفتوں سےیومیہ چالیس ہزار سے زائدٹیسٹ کئے جا رہے ہیں، گزشتہ ہفتے 40 فیصد ٹیسٹنگ کونیکٹ ٹریسنگ کی بنیاد پر کی گئی، اس وقت ملک بھر میں 4503 مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ ہے،اسمارٹ لاک ڈاؤنز کے ذریعے15لاکھ آبادی کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کورونا نے مزید 37 افراد کو لقمہ اجل بنالیا

این سی او سی کو بتایا گیا کہ صوبے کرونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے سخت اقدامات کررہےہیں، صوبائی انتظامیہ ایس او پیزپر سختی سےعملدرآمد کرا رہی ہے، ایس اوپیزپر عملدرآمد نہ کرنیوالوں کو جرمانےعائد کئےجارہےہیں،اس کے علاوہ ایس اوپیزپر عملدرآمدنہ کرنیوالوں کی املاک بھی سیل کی جارہی ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کرونا گائیڈ لائنز سے متعلق شعور اجاگر کرنے کیلئے ہفتہ ایس او پیز منایا جا رہا ہے، ملک بھر میں ہفتہ ایس او پیز 5 تا 12 دسمبر منایا جا رہا ہے، ہفتہ ایس او پیز کا مقصد حفاظتی اقدامات کیلئےشعور بیدارکرناہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں