The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر، نوجوان ماروائے عدالت شہید

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے کشمیری نوجوان کو ماروائے عدالت جبکہ دوسرے کو آپریشن کے دوران گولی مار کر شہید کردیا۔

کشمیر میڈیا سروسز کی رپورٹ کے مطابق کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے علاقے سوپور میں بھارتی فوج نے حراست میں لیے جانے والے نوجوان عرفان احمد ڈار کو حراست کے دوران شہید کیا۔

بھارتی فوج نے عرفان احمد ڈار اور اُن کے بھائی کو گزشتہ روز حراست میں لیا تھا، جس کے بعد رات گئے بھائی کو رہا کردیا تھا اور پھر آج صبح حراست میں‌ لیے گئے بھائی کی شہادت کی اطلاع سامنے آئی۔

عرفان کی شہادت کی خبر گھر پہنچی تو والدین اور بہن بھائی غم سے نڈھال ہوگئے اور انہوں نے انتظامیہ سے اپنے بیٹے کے ماورائے عدالت قتل کیے جانے کی وجہ پوچھی۔

کشمیر میڈیا سروس سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان کے بھائی کا کہنا تھا کہ ’میرا بھائی دکان پر کام کرتا تھا، بھارتی فوج گھر میں داخل ہوئی اور بغیر کسی وجہ سے ہم دونوں کو لے گئی‘۔

مزید پڑھیں: ایک اور بھارتی فوجی نے خودکشی کر لی

بھارتی حکومت کی نئی پالیسی کے تحت الزام میں گرفتار ہونے والے حریت پسند نوجوانوں کی لاشیں اہل خانہ کے حوالے نہیں کی جاتیں، اسی قانون کے تحت عرفان احمد ڈار کو بھارتی فوج نے گھر سے 100 کلومیٹر دور گھر والوں کو اطلاع دیے بغیر دفن کردیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دوسرے نوجوان کو ظالم اور بھارتی قابض فوج نے اوڑی میں شہید کیا، بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران نوجوان کو ریاستی دہشت گردی کے الزام میں سرعام گولی مار کر شہید کیا۔

دونوں نوجوانوں کی شہادت کے بعد عوامی ردعمل اور احتجاج کے پیش نظر بھارتی فوج نے بارہ مولا، کپواڑہ، بانڈی پورہ، گندر بل، پلوامہ، شوپیاں، راجوڑی میں محاصرہ کر کے سرچ آپریشن کا آغاز کردیا جس کے دوران متعدد بے گناہ نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں