The news is by your side.

Advertisement

گاؤ رکھشا کے نام پرمسلمانوں کے قاتل بھارت میں گائے زندہ دفن کردی گئی

نئی دہلی: بھارتی ریاست بہار میں نیل گائے کو زندہ دفن کردیا گیا ، ساتھ ہی ساتھ حکومتی شوٹرز نے تین سو سے زائد نیل گائے قتل کردیں ، یاد رہے کہ بھارت میں گائے ذبحہ پر کسی کی جان لے لینا معمولی بات ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے ضلع ویشالی میں اب تک محکمہ جنگلات نے تین سو سے زائد نیل گائے قتل کردی ہیں جبکہ ایک کو زندہ بھی دفن کردیا ہے اور ایسا کسانوں کی شکایات پر کیا جارہا ہے۔

محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے شکاری معاوضے پر رکھے ہیں جو یہ کام انجام دے رہے ہیں ، یہ تین سو سے زائد نیل گائے گزشتہ روز میں قتل کی گئی ہیں اور ان میں سے ایک جو کہ زخمی حالت میں تھی اسے کھدائی کرنے پر معمور کرین سے ایک گڑھے میں دھکا دے کر زندہ ہی دفن کردیا گیا۔

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے اور اس پر بہار کی حکومت کو بے پناہ تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیل گائے مارنے کی یہ مہم کسانوں کی شکایت پر کی جارہی ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ نیل گائے ان کی فصلیں برباد کردیتی ہے۔

ویشالی سے تعلق رکھنے والے ایم ایل اے راج کشور سنگھ نے یہ مہم مقامی حکومت اور ریاست بہار کے تعاون سے شروع کی ہے ۔ ویڈیو وائرل ہونے پر ان کی جانب سے اس ویڈیو کو جعلی قرارد یا گیا اور اس معاملے پر مزید تبصرہ کرنے سے انہوں نے گریز کیا۔

دوسری جانب ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ضلع ویشالی کے ایس پی پولیس مناوجیت سنگھ نے بھگوان پورہ پولیس اسٹیشن کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرے اور محکمہ جنگلات سے اس پر وضاحت بھی طلب کرے ، انہوں نے مزید حکم دیا ہے کہ نیل گائے کو زندہ دفن کرنے والے واقعے کے ذمہ داروں کو کڑی سزا دی جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ واقعہ اگر میرے علم میں ہوتا تو میں ایسا کبھی نہیں ہونے دیتا، کسانوں کی شکایت پر نیل گائے کی تعداد ضرور کم کی جارہی ہے لیکن کسی جانور کو زندہ دفن کردینا قطعی غیر انسانی ہے اور حکام اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔

یاد رہے کہ بھارت میں گائے کو بھگوان کا درجہ حاصل ہے اور موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں گائے کو لے کر مسلمانوں پر تشدد اور قتل کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کئی ایسے واقعات ریکارڈ پر ہیں جہاں مسلمانوں نے گائے ذبحہ نہیں کی لیکن ان کی تحویل میں گائے ہونے کے سبب انہیں قتل کردیا گیا۔

اس واقعے سے بھارت کا دوغلا چہرہ دنیا کے سامنے آشکار ہورہا ہے کہ وہ گاؤ رکھشا کو ایک جانب تو مذہبی معاملہ قرار دے کر مسلمانوں کے قتل کی کھلی اجازت دیتا ہے تو دوسری جانب ایک ہندو اکثریتی ریاست میں گائے کی ہی ایک قسم کی ایسی نسل کشی کی جاتی ہے اور ان میں سے ایک کو زندہ دفن کردیا جاتا ہے ، لیکن اس سے وہاں کے شرپسندوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں