میں نے جو کچھ کہا جیل میں مظلوم قیدیوں کی آواز تھی،نہال ہاشمی
The news is by your side.

Advertisement

میں نے جو کچھ کہا جیل میں مظلوم قیدیوں کی آواز تھی،نہال ہاشمی

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے سابق سینیٹر نہال ہاشمی کا کہنا ہے کہ میں نے جو کچھ کہا جیل میں مظلوم قیدیوں کی آواز تھی ، فیئرٹرائل میراحق ہے، مجھے انصاف ملنا چاہئے، کسی دوسرے کو معافی کو مل سکتی ہے تو مجھے بھی ملنی چاہئے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے باہر مسلم لیگ ن کے سابق سینیٹر نہال ہاشمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت وکیل عدالت کا احترام کرتا رہوں گا، میں نےجوکچھ کہا جیل میں مظلوم قیدیوں کی آوازتھی، میں نے جو قیدیوں سے سنا تھا اسے دہرایا تھا۔

نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی بحالی کے لئے جیل بھی جاچکا ہوں، کسی عدالت یامعززجج کیلئے کبھی بد زبانی نہیں کی۔

ن لیگ کے سابق سینیٹر نے مزید کہا کہ فیئرٹرائل میراحق ہے، مجھے انصاف ملنا چاہئے، کسی دوسرے کو معافی کو مل سکتی ہے تو مجھے بھی ملنی چاہئے۔

اس سے قبل  سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کا تحریری جواب مسترد کرتے ہوئے 26 مارچ کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نہال ہاشمی کے تحریری جواب سے مطمئن نہیں ہیں، مثالی فیصلے دیں گے۔


مزید پڑھیں : سپریم کورٹ کا نہال ہاشمی پر 26 مارچ کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ


واضح گزشتہ برس کراچی میں ایک تقریر کے دوران نہال ہاشمی نے پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ حساب لینے والوں، سن لو تم کل ریٹائر ہوجاؤ گے، ہم تمہارے خاندان کے لیے زمین تنگ کردیں گے۔

نہال ہاشمی کی توہین آمیز تقریر کے بعد انہیں توہین عدالت کے جرم میں ایک ماہ کی سزا سنادی گئی تھی تاہم رہائی کے بعد انہوں نے ایک بار پھر سخت زبان استعمال کرتے ہوئے عدلیہ مخالف الفاظ کہے تھے، جس کا چیف جسٹس نے دوبارہ نوٹس لے لیا۔

نہال ہاشمی نے توہین آمیز الفاظ ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ توہین آمیز الفاظ میرے نہیں ہیں، میں ایکٹنگ کر رہا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں