لیگی رہنما نہال ہاشمی نے توہین عدالت نوٹس کا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا -
The news is by your side.

Advertisement

لیگی رہنما نہال ہاشمی نے توہین عدالت نوٹس کا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

اسلام آباد : سابق سینیٹر اور لیگی رہنما نہال ہاشمی نے توہین عدالت نوٹس کا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق لیگی رہنما اور سینیٹر نہال ہاشمی نے توہین عدالت سے متعلق شوکاز نوٹس کا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا، نہال ہاشمی نے مؤقف اختیار کیا کہ تقریرمیں عدالت کی توہین کی نہ ججزاورجےآئی ٹی ممبران کودھمکیاں دیں، توہین عدالت کیس میں خبروں، چیئرمین پی ٹی آئی کے ٹوئٹس کا سہارا لیا گیا جبکہ فوادچوہدری، ترجمان پی ٹی آئی اور اپوزیشن ارکان  کا بھی سہارا لیا گیا۔

نہال ہاشمی نے اپنے جواب میں کہا کہ میں نے خطاب میں کسی جے آئی ٹی رکن کا نام نہیں لیا، جو ٹرانسکرپٹ دیاگیا وہ میری تقریر کا وہ حصہ ہے جو ٹی وی پر دیکھایا گیا، میرے دیئے گئے ریکارڈ کے مطابق میرے خلاف کسی قانونی کارروائی کا جواز نہیں بنتا۔

جمع کرائے گئے جواب میں مزید کہا گیا کہ عدالت نے ٹی وی پر چلنے والی رپورٹ پر توہین عدالت کا نوٹس لیا، تقریر کا ایک حصہ بار بار نشر کر کے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔


مزید پڑھیں : دھمکی آمیزتقریر کیس، سپریم کورٹ کی نہال ہاشمی کو جواب جمع کرانے کیلئے آخری مہلت


سابق لیگی رہنما نے عدالت سے اُن کےخلاف سازش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی استدعا کردی ہے۔

یاد رہے کہ دھمکی آمیز تقریر کیس میں سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو جواب جمع کرانے کیلئے آخری مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آخری موقع دے رہے ہیں۔


مزید پڑھیں : نہال ہاشمی کی پانامہ کیس کی تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی کو کھلے عام سنگین دھمکیاں


واضح رہے کہ ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر نہال ہاشمی نےکہا تھا کہ احتساب کرنے والوں ہم تمہارا یوم حساب بنادیں گے، تم جس کااحتساب کر رہے ہو وہ نوازشریف کا بیٹاہے، ہم نے چھوڑنا نہیں تم کو آج حاضر سروس ہو کل ریٹائر ہوجاؤ گے، ہم تمہارے بچوں اور خاندان کے لیے پاکستان کی زمین تنگ کردیں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جے آئی ٹی سے متعلق نہال ہاشمی کے بیان کا نوٹس لے کر ان کا معاملہ پاناما عمل درآمد بینچ کو بھیج دیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں