The news is by your side.

Advertisement

خاتون صحافی جس نے 72 دن میں‌ دنیا کے گرد چکّر لگانے کا ریکارڈ بنایا

یہ 1880ء کی بات ہے جب امریکی شہر پٹسبرگ کے مشہور اور کثیرالاشاعت روزنامہ "پٹسبرگ ڈسپیچ” میں‌ ایک مضمون شایع ہوا جو عورت ذات سے متعلق مصنّف کے دقیانوسی خیالات اور روایتی سوچ کا عکّاس تھا۔

یہ مضمون الزبتھ کوکرن سیمین کی نظر سے بھی گزرا جو اس شہر میں‌ نووارد تھی۔ مضمون نگار کا کہنا تھاکہ کسی بھی معاشرے میں بہترین اور مثالی عورت وہی ہوتی ہے، جو شادی کے بعد بچّے پیدا کرے اور ان کی پرورش کرنے کے ساتھ ساتھ گھر داری میں بھی اچّھی ثابت ہو۔

الزبتھ کو یہ تحریر فضول خیالات اور احمقانہ تصوّرات کا مجموعہ لگی جس کے بعد اس نے اخبار کے مدیر کو فرضی نام سے ایک خط لکھا۔

اس نوجوان لڑکی نے مضمون کے مندرجات پر غم و غصّے کا اظہار کرتے ہوئے عورت کے فرائض، اس کی گھریلو ذمہ داریوں‌ اور معاشرے میں‌ اس کی اہمیت اور کردار کے حوالے سے اپنے خیالات مدیر تک پہنچا دیے۔

Lonely Orphan Girl (تنہا یتیم لڑکی) کے قلمی نام سے خط پڑھ کر اخبار کے مدیر جارج میڈن بہت متاثر ہوئے۔ انھوں نے اخبار ہی کے ذریعے اس لڑکی کو پیغام دیا کہ وہ ان سے رابطہ کرے۔ یوں‌ ان کی ملاقات ہوئی جس میں‌ جارج میڈن نے اس کے خیالات اور طرزِ تحریر کو بھی سراہا اور اخبار کے لیے مزید مضامین لکھنے پر اصرار کیا۔ یوں‌ الزبتھ نے باقاعدہ مضمون نگاری شروع کی اور پھر عملی صحافت میں‌ قدم رکھ دیا۔

وہ اپنے قلمی نام نَیلی بِلے (Nellie Bly) سے پہچانی گئی۔ اس زمانے میں‌ خواتین قلمی نام سے لکھا کرتی تھیں‌ اور الزبتھ نے بھی مدیر کے مشورے سے قلمی نام اپنایا تھا۔

اس کا پہلا مضمون، ’’دی گرل پزل‘‘ (The Girl Puzzle) کے عنوان سے جارج میڈن تک پہنچا تو اس بار بھی وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس مضمون کی اشاعت کے ساتھ ہی جارج نے الزبتھ کو اخبار میں کُل وقتی ملازمت کی پیش کش کردی جو اس نے قبول کرلی۔

عملی صحافت سے منسلک ہونے کے بعد تحقیقاتی رپورٹر کی حیثیت سے اس نے بڑا نام کمایا۔ وہ خواتین اور فیشن سے متعلق صفحے کی ذمہ دار تھی اور مضمون نگاری کے ساتھ تحقیقاتی رپورٹنگ بھی کرنے لگی، لیکن اس کے لیے نَیلی بِلے نے جو راستہ اختیار کیا وہ سب سے جدا تھا۔ وہ اپنے مضامین اور خبر کے لیے بھیس بدل کر حقائق اور معلومات اکٹھا کرنے لگی جس نے اسے اپنے شعبے میں‌ منفرد اور نمایاں‌ کیا۔

نَیلی بِلے نے مزدور پیشہ اور کارخانوں کی ملازم عورتوں کے ابتر حالات کو موضوع بنایا۔ اس نے کارخانوں میں مختلف کام کرنے والی عورتوں‌ کے حالات پر تحقیقی اور جامع مضامین کا ایک سلسلہ تحریر کیا، جس پر سرمایہ دار اور کارخانوں کے مالکان اس کے خلاف ہو گئے اور ان کی شکایات پر اس کے قلم کو مخصوص موضوعات تک محدود اور پابند کردیا گیا، تب اس نے بطور غیر ملکی نامہ نگار کام کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس کے بعد وہ اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ کی تکمیل اور مہم جُوئی کی غرض سے دنیا کے گرد چکّر لگانے کے ارادے سے نکلی۔ اس نے 72 دن میں اپنا سفر مکمل کیا جو ایک ریکارڈ تھا۔ اسی کے ساتھ نَیلی بِلے نے پاگل کا بہروپ بھر کر ایک ذہنی بیماری کے ادارے سے متعلق معلومات بھی اکٹھی کیں اور یہ اس کی وجہِ شہرت بنا۔

نَیلی بِلے نے 1864ء میں امریکا میں آنکھ کھولی، وہ کم عمر تھی جب والد دنیا سے رخصت ہوگئے اور والدہ نے نئے شہر میں‌ سکونت اختیار کرلی جہاں اس نے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ صحافی اور مصنّف ہی نہیں صنعت کار، موجد اور سماجی خدمت گار بھی تھی۔ 1922ء میں نَیلی بِلے کا انتقال ہوگیا تھا۔

لڑکپن تک اہلِ خانہ اور حلقۂ احباب اسے "پنکی” کی عرفیت سے پکارتے رہے۔ گلابی رنگ اسے شروع ہی سے بہت پسند تھا، وہ زیادہ تر اسی رنگ کے ملبوسات زیبِ تن کرتی تھی، مگر سیماب صفت اور پُرجوش الزبتھ نے نوجوانی میں اپنی اس عرفیت کو ترک کردیا۔ اب وہ ایک سنجیدہ، متین اور نفیس خاتون کے طور پر اپنا تعارف کروانا چاہتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ یہ عرفیت اس کی شخصیت کو دھندلا رہی ہے۔ اس نے اپنا "سَر نیم” بھی تبدیل کرلیا۔

بعد کے برسوں میں قسمت اس پر مہربان ہوئی اور اس نے واقعی ایک باصلاحیت اور قابل لڑکی کے طور پر خود کو منوایا جس کا کام نہایت سنجیدہ اور اہم نوعیت کا تھا، وہ عورتوں کے حقوق اور ان سے ناانصافیوں‌ کے خلاف اپنے قلم کے ذریعے آواز بلند کررہی تھی۔ اس نے سچّ لکھا اور حقائق و معلومات تک رسائی کے لیے اپنی زندگی بھی خطرے میں‌ ڈالی۔ نَیلی بِلے امریکا میں تحقیقاتی صحافت کے اوّلین ناموں‌ میں سے ایک ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں