نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پر ان کے خوبصورت اقوال پڑھیں -
The news is by your side.

Advertisement

نیلسن منڈیلا کے عالمی دن پر ان کے خوبصورت اقوال پڑھیں

جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر آج دنیا بھر میں ان کا دن منایا جارہا ہے۔

رنگ اور نسل پرستی کے خلاف جنوبی افریقہ میں طویل جدوجہد کرنے والے قابل احترام رہنما نیلسن منڈیلا کی سالگرہ کے دن کو نیلسن منڈیلا کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

اس دن کو منانے کا فیصلہ اقوام متحدہ نے سنہ 2009 میں کیا تھا۔ اس دن کا مقصد لوگوں کو ترغیب دینا ہے کہ وہ اپنے آس پاس موجود افراد کی مدد کریں۔

سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کرنے والے منڈیلا نے جیلیں بھی کاٹیں، جلا وطنیوں کا دکھ بھی سہا، تکالیف، اذیت اور اپنوں سے دوری کا غم بھی جھیلا، اور پھر بالآخر وہ وقت بھی آیا جب وہ سنہ 1994 میں جنوبی افریقہ کے صدر منتخب ہوئے۔

یہ نیلسن منڈیلا ہی تھے جن کی طویل جدوجہد نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کا خاتمہ کیا۔ صدر بننے کے بعد انہوں نے اعلان کیا، ’آج قانون کی نظر میں جنوبی افریقہ کے تمام لوگ برابر ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے ووٹ دے سکتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتے ہیں‘۔

آج اس عظیم رہنما کے عالمی دن کے موقع پر یقیناً آپ ان کے زندگی بدل دینے والے اقوال پڑھنا چاہیں گے۔

زندگی میں کبھی ناکام نہ ہونا عظمت نہیں، بلکہ گرنے کے بعد اٹھنا عظمت کی نشانی ہے۔

والدین کے لیے ایک کامیاب اولاد سے بہتر کوئی انعام نہیں۔

آپ اس وقت تک اس قوم کی اخلاقی حالت کے بارے میں نہیں جان سکتے جب تک آپ وہاں کی جیلوں میں وقت نہ گزار لیں۔ کسی قوم کی شناخت اس کے اس رویے سے نہیں ہوتی جو وہ اپنے اعلیٰ طبقے کے ساتھ روا رکھتا ہے، بلکہ اس رویے سے ہوتی ہے جو وہ اپنے نچلے طبقے سے اپناتا ہے۔

زندگی میں اہم یہ نہیں کہ ہم کیسی زندگی گزار رہے ہیں، بلکہ اہم یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں دوسروں کی بہتری کے لیے کیا کیا۔

ہمیشہ پیچھے سے رہنمائی کرو۔ دوسروں کو یہ باور کرواؤ کہ رہنما وہ ہیں۔

جب تک کوئی کام نہ کرلیا جائے تب تک وہ ناممکن محسوس ہوتا ہے۔

اگر آپ اپنے دشمن کے ساتھ امن چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ کام کریں، اس کے بعد وہ آپ کا پارٹنر بن جائے گا۔

باہمت لوگ امن کے لیے کبھی بھی معاف کرنے سے نہیں گھبراتے۔

امن کا نوبیل انعام پانے والے نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی کے 27 قیمتی سال قید میں گزارے۔ وہ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’جیل میں ڈال دیے جانے کے بعد چھوٹی چھوٹی چیزوں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جیسے جب دل چاہے چہل قدمی کرلینا یا قریبی دکان تک جانا اور اخبار خرید لینا‘۔

جیل سے آزاد ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ’جب میں اس دروازے کی طرف بڑھا جو مجھے آزادی کی طرف لے جارہا تھا، تب میں جانتا تھا کہ اگر میں نے اپنی نفرت اور تلخ یادوں کو یہیں نہ چھوڑ دیا تو میں ہمیشہ قیدی ہی رہوں گا‘۔

موت کے بارے میں منڈیلا کا خیال تھا، ’موت ناگزیر ہے۔ جب کوئی شخص اس ذمہ داری کو پورا کرلیتا ہے جو قدرت نے اس کی قوم اور لوگوں کی بہتری کے لیے اس کے ذمے لگائی ہوتی ہے، تب وہ سکون سے مرسکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں اپنی ذمہ داری نبھا چکا ہوں۔ اب میں ابدیت کی زندگی میں سکون سے سو سکتا ہوں‘۔

آزادی اور حقوق کی علامت اور بیسویں صدی کی قد آور سیاسی شخصیت نیلسن منڈیلا 5 دسمبر سنہ 2013 کو 95 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں