The news is by your side.

نیپال کے مُستنگ نامی غار، ایک معمہ

نیپال میں واقع ہمالیائی خطے میں ہزاروں برس پہلے انسانی ہاتھوں سے بنائی گئی پُراسرار غاروں کا معمہ آج تک حل نہیں ہو سکا ہے۔

دس ہزار کے لگ بھگ یہ غاریں زمین سے کئی فٹ بلندی پر بنائی گئی ہیں۔ ان غاروں میں داخلے کے لیے چٹان کے اوپر ایک عمودی سرنگ موجود ہے۔ یہ غاریں چٹانوں کو کاٹ کر بنائی گئی ہیں اور اکثر غاروں کا دہانہ چٹان کے سرے پر ہے۔ ان غاروں سے قدیم دور کی بنائی ہوئی تصاویر اور آلات بھی ملے ہیں۔
یہ ایک معمہ ہے کہ ان غاروں میں کیسے داخل ہوا جاتا تھا۔ ماہرین آثار قدیمہ یہ معمہ حل نہیں کر پائے کہ ان کے بنانے کا کیا مقصد تھا اور ان کی تکمیل کب ہوئی۔

یہ غار نیپال کے دور دراز شمال وسطی علاقے میں، کھٹمنڈو کے شمال مشرق میں 250 کلومیٹر کے فاصلے پر مُستنگ نامی علاقے میں دریافت کیے گئے تھے اور 1992ء تک یہاں لوگوں کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہمالیہ کے شمال میں سطحِ سمندر سے 14,000 فٹ کی بلندی پر واقع اس پہاڑی سلسلہ پر بنے یہ غار زمین سے 155 فٹ کی بلندی پر واقع ہیں۔

انسانوں کے تعمیر کردہ ان ہزاروں غاروں کا شمار دنیا میں موجود آثار قدیمہ کے سب سے زیادہ پراسرار رازوں میں کیا جاتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں کھودے گئے یہ سوراخ نازک اور انتہائی بڑے ہیں۔

حیران کن تعداد میں دریافت ہونے والے یہ غار کچھ چٹان کے سامنے کی جانب سے کھودے گئے ہیں جب کہ کچھ کی کھدائی سرنگوں کی شکل میں کی گئی ہے۔ ان بلند ترین غاروں کو دیکھ کر متعدد سوال جنم لیتے ہیں مثلاً ان کو کس نے تعمیر کیا اور جنہوں نے یہ غاریں کھودی تھیں وہ زمین سے اس قدر بلندی پر ان پہاڑوں پر چڑھے کیسے؟

یہاں ایک غار میں بارھویں صدی کی بنی ہوئی بدھا کی تصاویر بھی دریافت ہوئی ہیں۔ غار میں ایک میورل ملا ہے جس کے 55 پینل ہیں اور ان پر بدھا کی زندگی کے مختلف ادوار دکھائے گئے ہیں۔ میورل ایک قسم کی ایک بہت بڑی پینٹنگ ہوتی ہے جس پر تصویروں کی مدد سے کوئی قصّہ اور واقعہ بتایا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں