The news is by your side.

Advertisement

تاریخ پیدائش سے متعلق غلط بیانی: نیپالی چیف جسٹس عہدے سے برطرف

کٹھمنڈو:نیپال کے چیف جسٹس گوپال پاراجولی کو بدھ کے روز اپنی تاریخ پیدائش سے متعلق غلط بیانی اور دھوکا دہی کے الزام میں عہدے سے برطرف کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نیپال کے چیف جسٹس کو سرکاری دستاویزات میں متعدد تاریخ پیدائش درج ہونے کے باعث اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔

یہ معاملہ اس وقت سے زیربحث تھا، جب چیف جسٹس نے نیپال کے ایک معروف سماجی کارکن اور ایک بڑے خبر رساں ادارے کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ اخبار اور سماجی کارکن کی جانب سے سب سے پہلے یہ متنازع مسئلہ اٹھایا گیا تھا۔

معاملے کی چھان بین کرنے والی عدلیہ کونسل نے پاراجولی کے حوالے سے کہا کہ وہ سات ماہ پہلے ہی ججز کی سبکدوشی کی متعین  حد ( 65 برس) عبور کرکے عہدے سے ریٹائرڈ ہوچکے ہیں۔

کونسل کے سیکریٹری نریپڈوج نیراؤلا نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ گوپال پاراجولی گذشتہ سال اگست میں ہی ریٹائرڈ ہوگئے تھے، یہ بات ہمیں دوران تفتیش پتہ چلی، جس کے بعد یہ اہم فیصلہ کیا گیا۔

متنازع تاریخ پیدائش کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا، جب گوپال پاراجولی نیپال کے دوسری بار منتخب ہونے والے صدر بیدیا بھانداری سے حلف لے رہے تھے۔ جس کے باعث نیپال میں آئینی بحران پیدا ہوگیا ہے، ابھی یہ واضح نہیں کہ نیپالی صدر کو دوبارہ حلف لینا ہوگا یا نہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ فروری میں پاراجولی نے نیپال کے ایک بڑے خبر رساں ادارے کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ ادارے نے پاراجولی کی متنازعے تاریخ پیدائش کے حوالے سے کالمز کی پوری ایک سیریز لکھی تھی، جس میں چیف جسٹس کی مختلف سرکاری دستاویزات میں پانچ الگ الگ تاریخیں درج تھی۔

عدلیہ کونسل کے سیکریٹری نریپڈوج نے توہین عدالت کے میڈیا پر لگائے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ پاراجولی ان طریقوں سے اپنے لیے مزید نفرت پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود ان مقدمات کو دیکھیں گے۔

جنوری میں پاراجولی نے بدعنوانی کے خلاف سرگرم ڈاکٹر گوویندا کے سی کی گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا، ڈاکٹر گوویندا نے بھی پاراجولی کی متنازعے تاریخ پیدائش کے حوالے سے سخت سوالات اٹھائے تھے۔

گوپال پاراجولی کے برطرف کیے جانے کے بعد سوشیلا کارنے چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا۔ وہ نیپال کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں