نیپرا نے ستمبر 2025 کے ایف سی اے کی مد میں 48 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (گارنٹی) لمیٹڈ (سی پی پی اے جی) کی جانب سے ستمبر 2025 کے لیے جمع کرائی گئی ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی درخواست پر اپنا فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق فی یونٹ 0.4812 روپےکمی کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق صارفین کے نومبر 2025 کے بلوں میں کیا جائے گا۔
یہ منظور شدہ ایف سی اے کے-الیکٹرک (کے ای) کے صارفین پر بھی لاگو ہوگا جو کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 19 اگست 2025 کے فیصلے کے تحت ٹیرف ریشنلازیشن کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔
کے-الیکٹرک کے لیے مقرر کردہ ماہانہ ایف سی اے اور نوٹیفائیڈ یکساں ایف سی اے کے درمیان فرق حکومت کی جانب سے سبسڈی کی صورت میں فراہم کیا جائے گا۔
ایف سی اے بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ اور جنریشن مکس میں تبدیلیوں پر منحصر ہے۔
نیپرا کی جانچ پڑتال اور منظوری کے بعد ان اخراجات کا اطلاق صارفین کے بلوں میں کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں صارفین اپنے بلوں میں منفی ایف سی اے کا فائدہ بھی حاصل کرتے ہیں۔ صارفین سے وصول کیے جانے والے نرخ نیپرا کی جانب سے مقرر کیے جاتے ہیں اور وفاقی حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کیے جاتے ہیں۔
ریگولیٹری اتھارٹی کے فیصلے کے مطابق یہ ایف سی اے تمام صارفین پر قابلِ اطلاق ہوگا، سوائے لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز (ای وی سی ایس)، اور اُن تمام صارفین کے جو پری پیڈ ٹیرف کے تحت بجلی استعمال کر رہے ہیں۔


