The news is by your side.

Advertisement

ملک بھر میں ہونے والے بلیک آؤٹ کا ذمہ دار کون ؟ تحقیقات کیلئے 3رکنی کمیٹی قائم

اسلام آباد : نیپرا نے ملک بھر میں ہونے والے بلیک آؤٹ کی وجوہات تلاش کرنے کیلیے 3رکنی کمیٹی قائم کردی، تحقیقاتی کمیٹی15روزمیں بلیک آؤٹ کےذمہ داروں کا تعین کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق نیپرا نے بجلی بریک ڈاؤن کی تحقیقات کیلئے 3رکنی کمیٹی قائم کردی ، ڈی جی نیپرانادرعلی کھوسوکی سربراہی میں کمیٹی بلیک آؤٹ وجوہات تلاش کرے گی۔

کمیٹی کےدیگردوممبران میں این ٹی ڈی سی کے سابق منیجر،سابق چیف انجینئرشامل ہیں ، تحقیقاتی کمیٹی15روزمیں بلیک آؤٹ کےذمہ داروں کاتعین کرے گی اور بجلی کی بروقت بحالی کیلئےکوششوں کی سنجیدگی کاجائزہ لےگی جبکہ ماضی میں ہونےوالےبلیک آؤٹ کی تحقیقات کابھی مشاہدہ کرےگی۔

یاد ہے ذرائع وزارت توانائی  نے  ملک بھر میں ہونے والے بلیک آؤٹ کو  انسانی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ  نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کی منظوری کے بغیر بریکرز کی مینٹننس کی جارہی تھی جہاں معمولی سی غلطی سے پورا سسٹم بیٹھ گیا۔

ذرائع کا کہنا تھا  کہ گدو پاور پلانٹ کے سوئچ یارڈ میں لگے ایک بریکر کی مینٹننس جاری تھی، میٹننس کے دوران سرکٹ بریکر کی ارتھنگ کی گئی تھی، دن کو کام کرنے والا عملہ اس سرکٹ بریکر کو کلوز کیے بغیر چلا گیا۔

اس سے قبل بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجہ جاننے کے لیے حکومت نے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کرتے ہوئے گدو تھرمل پاور کے 7 افسران و ملازمین کو معطل کر دیا گیا تھا۔

سینٹرل پاور جنریشن کمپنی کا کہنا تھا کہ پلانٹ منیجر سہیل احمد، جونیئر انجینئر دلدار علی چنا، فورمین علی حسن گولو، آپریٹر ایاز حسین، سعید احمد، اٹنڈینٹ سراج احمد اور اٹنڈینٹ الیاس احمد کو معطل کیا گیا، ان افسران و ملازمین کی غفلت سے پاور بریک ڈاؤن ہوا۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں بریک ڈاؤن کیوں ہوا؟ اس کی وجوہ جاننے کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں بدستور جاری ہیں، وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا تھا کہ فالٹ گدو پاور پلانٹ کی چار دیواری کے اندر نہیں ہوا، بلکہ باہر ہوا ہے جس کے لیے پول ٹو پول اسے ڈھونڈا جا رہا ہے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی ٹرپنگ پہلی بار ہوئی ہے، سسٹم فعال ہو چکا ہے، اب آزادانہ انکوائری کرائی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں