site
stats
پاکستان

کے الیکٹرک کی سرمایہ کاری کے باوجود بجلی کا بحران ہے، چیئرمین نیپرا

کراچی: چیئرمین نیپرا نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک نے پیدوار کے نام پر سرمایہ کاری کی لیکن بجلی کی تقسیم اور ٹرانسمیشن لائن کی درستگی نہ ہونے کی وجہ سے شہر کو بجلی کے طویل بحران کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئندہ سات سالوں 2016 سے 2023 تک کے لیے  بجلی کے نرخوں کو مقرر کرنے کے حوالے سے نیپرا کی عوامی سماعت ہوئی جس میں جماعت اسلامی نے ٹیرف میں کمی کے ساتھ کے الیکٹرک کے 2009 سے 2013 تک فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کیا۔

سماعت کے دوران چئیرمین نیپرا طارق سدوزئی نے کے الیکٹرک کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری، ڈسٹریبیوشن اور ٹرانسمیشن کے نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’کے الیکٹرک نے پیداوار کے نام پر سرمایہ کاری تو کی مگر دوسری طرف بجلی کی تقسیم اور ٹرانسمیشن کی درستگی نہ ہونے سے شہر کو بجلی کے بحران اور طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘‘۔

دورانِ سماعت جماعت اسلامی کراچی کے امیر  نعیم الرحمان جو اس کیس کے مدعی بھی ہیں نے کے الیکٹرک کے 2009 سے 2013 تک کے لیے جے آئی ٹی کی تشکیل دینے اور فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کیا۔

پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ کا نیپرا کوکےالیکٹرک کےخلاف کارروائی کا حکم

سماعت میں شنگھائی الیکٹرک کے نمائندے کو بات کرنے کا موقع نہ دینے پر شدید ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی ہوئی جس کی وجہ سے ایوان نعروں سے گونج اٹھا جبکہ شنگھائی الیکٹرک کے نمائندے بھی بات کرنے کا موقع نہ ملنے پر کمرہ سماعت سے اٹھ کر روانہ ہوگئے۔

سماعت کے دوران کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طیب ترین نے کہا کہ ٹیرف میں اضافہ نہ ہوا تو منافع بخش ادارہ خسارے میں چلاجائے گااور کراچی میں اضافی لوڈشیڈنگ کا خدشہ پیدا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ٹیرف میں اضافہ نہ کیا گیا تو اگلے سات سال میں 250 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی خطرے میں پڑجائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top