اسلام آباد (16 جنوری 2026): نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 جاری کر دی جس میں شعبے کے گردشی قرضے کو معیشت کیلیے بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ کے مطابق ٹیکسز، ڈیوٹیز اور سرچارجز کے باعث بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت ہو چکی ہیں، مالی سال 24-2023 میں بجلی کمپنیوں کے نقصانات 18.31 فیصد رہے، نیپرا نے ڈسکوز کیلیے نقصانات کی حد 11.77 فیصد مقرر کر رکھی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈسکوز نقصانات کے باعث ایک سال میں گردشی قرض 276 ارب روپے مزید بڑھا، مالی سال 24-2023 میں ریکوری کی شرح 92.44 فیصد تک رہی، وصولیاں کم رہنے سے ایک سال میں سرکلر ڈیٹ 314 ارب 51 کروڑ روپے بڑھا۔
نیپرا کے مطابق کے-الیکٹرک سمیت ڈسکوز کے واجبات 2 ہزار 320 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، ملک میں بجلی کی کل صلاحیت 45 ہزار 888 میگاواٹ ہے، ایک سال میں دستیاب بجلی کے استعمال کی شرح 33.88 فیصد رہی، صارفین نے استعمال نہ ہونے والی 6.12 فیصد توانائی کی قیمت بھی ادا کی، مالی سال 24-2023 میں اس کی فروخت میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں


