ہفتہ, جولائی 11, 2026
اشتہار

فرد کی فلاح اور ترقی کے عمل میں سیفٹی نیٹ کی اہمیت

اشتہار

حیرت انگیز

میرے والد نے 1950 کی دہائی میں پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس دور میں اداروں میں بہت اچھا اور مؤثر سیفٹی نیٹ یعنی سماجی بہبود اور فلاح کا نظام موجود تھا۔ ایک مناسب تنخواہ کے ساتھ گریجویٹی، پراویڈنٹ فنڈ اور پنشن کے علاوہ علاج معالجے کی سہولیات بھی دستیاب تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ میرے والد اور ان کی طرح دوسرے لاکھوں لوگوں نے بہتر انداز میں اپنی زندگی گزاری اور انہیں ایک قسم کے تحفظ کا احساس رہا۔ اس زمانہ میں اکثر لوگ اس قابل بھی ہو جاتے تھے کہ وہ ذاتی گھر تعمیر کرسکیں اور انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی علاج معالجے کی سہولت میسر رہی جو کسی نعمت سے کم نہیں‌۔

90 کی دہائی میں پاکستان میں معیشت کو لبرلائز کرنے کا عمل شروع ہوا۔ جس میں نہ صرف اداروں کی نجکاری کی گئی بلکہ نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور اس میں سرگرمیوں کو فروغ دینے کے اقدامات کرتے ہوئے نجی شعبے کو معاشی ترقی کا انجن قرار دے دیا گیا۔ گزشتہ تقریبا 36 سال میں نجی شعبے میں بہت ترقی تو ہوئی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ سماجی، مالیاتی اور صحت کا سیفٹی نیٹ جو گزشتہ برسوں میں مضبوط ہوچکا تھا، آہستہ آہستہ ختم ہوگیا۔ پہلے اس سے نجی شعبے کے ملازمین متاثر ہوئے اور اب سرکاری ملازمین کو بھی پنشن اور دیگر مراعات کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے۔

سماجی سطح پر تحفظ، انسان کی ترقی اور خوش حالی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کوئی بھی خاندان تین نسلوں کی محنت کے بعد غریب طبقے سے متوسط طبقے کی فہرست میں شمار ہونے لگتا ہے، مگر اداروں اور کام کی جگہوں پر مختلف شکلوں میں سماجی تحفظ حاصل نہ رہے اور کوئی ناگہانی آفت بھی سر پر آن پڑے تو یہ انہیں دوبارہ خطِ غربت کی جانب دھکیل دیتا ہے۔ پاکستان میں ملازمت کے محدود مواقع، مہنگائی اور غیر یقینی معاشی صورت حال کے علاوہ سیفٹی نیٹ سے محرومی کے باعث غربت میں کمی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے۔

دنیا بھر میں مختلف شکلوں میں سماجی تحفظ کا نظام اب حکومتی بجٹ کے سہارے پر نہیں کھڑا ہے بلکہ انشورنس پر منتقل ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں انشورنس کی صنعت مستحکم اور مضبوط ہوئی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں جیسا کہ امریکا، برطانیہ اور جاپان میں انشورنس کی صنعت کا پھیلاؤ جی ڈی پی کے 8 فیصد تک ہوتا ہے ج بکہ چِین اور بھارت جیسے ملکوں میں یہ شرح 3 سے 4 فیصد تک ہے، مگر پاکستان میں انشورنس کی صنعت کا حجم ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ دنیا کے مقابلے میں انشورنس کی کم ترین سطح ہے۔

اس موضوع پر ہم نے انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن جہانزیب ظفر کا کہنا تھا کہ انشورنس کے ذریعے فراہم کیا جانا والا تحفظ اس ملک کے مالیاتی نظام کے استحکام اور عوام کی فلاح اور خوش حالی کا عکاس ہے۔ جس ملک میں جی ڈی پی کے تناسب سے انشورنس کا پھیلاؤ زیادہ ہوتا ہے اس ملک میں افراد، کاروبار اور املاک کو ناگہانی کی صورت میں اسی قدر تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ کسی آفت اور حادثے کے بعد وہ مالی معاونت حاصل کرسکتے ہیں جو انہیں دوبارہ معمول کی زندگی کی جانب گامزن کرسکے اور وہ ملک جہاں انشورنس کی شکل میں افراد اور املاک کو تحفظ کم میسر ہے، وہاں کسی قسم کے مالی خسارے کو پورا کرنے، یا اس دوران اپنے گھریلو اخراجات اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے لوگ اپنی بچت یا یومیہ کمائی سے رقم نکالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس سے ان کا معیارِ زندگی براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ بعض اوقات میں وہ اپنی خوراک، تعلیم اور صحت پر سمجھوتا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور ان کا مجموعی معاشی معیار شدید متاثر ہوتا ہے۔

پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ نجی اداروں یا زراعت سے منسلک ہیں۔ جہانزیب ظفر نے اس حوالے سے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ایسے محنت کشوں کے لیے کسی قسم کا سیفٹی نیٹ موجود ہی نہیں ہے۔ یہ کبھی زمیں دار کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں یا پھر کسی چھوٹے بڑے تجارتی ادارے کے مالک کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ ان کی معاونت زمیں دار یا صنعتی و تجارتی ادارے کے مالک کی منشا اور مرضی پر منحصر ہوتی ہے۔ سماجی تحفظ کی فراہمی میں ایک رکاوٹ یا مسئلہ ریاست کی جانب سے کی گئی قانون سازی بھی ہے۔ قانونی طور پر پاکستان میں آجر اس بات کا پابند نہیں کہ وہ ہنگامی حالات میں اپنے ملازمین کی مالی معاونت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ محنت کشوں کی غالب اکثریت ہمہ وقت مالی خدشات اور مشکلات میں گھری رہتی ہے۔ کیونکہ انہیں زندگی اور صحت سمیت کسی بھی طرح کا بیمہ دستیاب نہیں ہوتا۔

پاکستان میں انشورنس کو سماجی تحفظ کی ایک مؤثر اور سود مند شکل کے طور پر ریاستی سطح پر زیادہ پذیرائی نہیں ملی ہے۔ اس لئے ملک میں سماجی تحفظ کے جو بھی پروگرام چل رہے ہیں، وہ وفاقی یا صوبائی بجٹ پر بوجھ بنتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ریاستی اسکیم، پائیدار اور خطرات میں وسیع تحفظ فراہم کرنے والی پالیسی کے بجائے فوری مالی ریلیف تو فراہم کرتی ہے۔ مگر اس سے ایک تو صوبائی یا وفاقی بجٹ پر دباؤ پڑتا ہے اور دوسری طرف اس ریلیف کے لئے بھی متاثرین کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔

یہ سطور تحریر کرتے ہوئے جب سرکاری سطح پر ناگہانی آفات کی صورت میں شہریوں کو دی جانے والی مالی معاونت پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ یہ رقم 3 سے 5 لاکھ کے درمیان ہے۔ یہ رقم کسی بھی عام بیماری کے مکمل علاج کے لئے بھی ناکافی ہے تو اس قلیل رقم سے کوئی خاندان اپنے کفیل کی مستقل معذوری یا پھر موت کی صورت میں معیار زندگی کیسے برقرار رکھ سکتا ہے۔

پاکستان سوسائٹی آف ایکچوریز کے صدر اسامہ ڈانگرہ نے اس بارے میں کہا کہ حکومتی بجٹ میں عوام کو براہ راست سماجی تحفظ فراہم کرنے کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔ مگر یہ تحفظ معاشی اور معاشرتی ترقی کے لیے بہت اہم بھی ہے۔ اس لیے پاکستان میں سماجی تحفظ کے فروغ میں انشورنس کو ایک جامع حل کے طور پر استعمال کرنا ہوگا۔ اسامہ ڈانگرہ کی نظر میں انشورنس کی وسعت تعلیم و صحت تک رسائی کو بہتر بنانے میں معاون ہوسکتی ہے۔ اس کے لیے ہر کام کرنے والے فرد کی انشورنس کو یقینی بنانا ہوگا۔

اگر آپ نجی شعبے کے تجارتی ادارے میں کام کرتے ہیں تو 20 ملازمین اور صنعتی ادارے میں کام کرتے ہیں تو 50 ملازمین پر کوئی ادارہ انشورنس سہولت فراہم کرنے کا پابند ہے۔ ویسے تو اس قانون پر بڑے بڑے کاروباری اور تجارتی ادارے عمل نہیں کرتے مگر بڑی تعداد میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے تجارتی اور صنعتی ادارے اس شرط سے باہر ہو جاتے ہیں۔

اس وقت حکومت براہِ راست انشورنس سے متعلق قانون سازی تو کر رہی ہے مگر انشورنس سکیٹر کے علاوہ متعدد قوانین میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے اور اسی صورت میں عوام کو بہتر سماجی تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ آرڈینسس میں ترمیم کرتے ہوئے اس قانون میں کنٹریکٹ اور عارضی ملازمین کو بھی انشورنس کی کوریج کا حق دار بنایا جائے۔ انشورنس کی لازمی شرط کے لیے ملازمین کی حد پر قانون میں رکھی گئی انشورنس کی رقم کی حد میں اضافہ کیا جائے اور ایسا طریقۂ کار وضع کیا جائے کہ ہر سال منہگائی کو ایڈجسٹ کر کے انشورنس کی رقم کو بڑھایا جاسکے۔

ملک میں قومی سطح کی ایک ایسی سوشل سیکیورٹی اسکیم کی شدید ضرورت ہے جو سب کو شامل کرے—خاص طور پر غیر رسمی شعبے کے کارکنان کو۔ اس میں خواتین، گھریلو ملازمین، دیہاڑی دار طبقہ، زرعی کارکن، اور معاشرے کے دیگر کمزور طبقات شامل ہیں جن کے پاس فی الوقت بیماری، حادثات، معذوری، یا کسی آفت کی صورت میں موت کے بعد کسی رسمی مالی نیٹ ورک کی سہولت موجود نہیں ہے۔

موجودہ لیبر قوانین کے تحت ملازمین کو فراہم کی جانے والی سوشل سیکیورٹی کے دائرۂ کار کو بڑھانے کے لیے کم سے کم ملازمین کی حد کو ختم کیا جائے اور ملازمین کے علاوہ ان کے اہل خانہ کو بھی سماجی تحفظ میں شامل کیا جائے۔ لازمی انشورنس اسکیم پر عمل درآمد کے لیے ریاست کے محنت کشوں سے متعلق بنائے گئے مختلف محکموں کے ڈیٹا اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ڈیٹا کو ایک جگہ جمع کیا جائے اور اس ڈیٹا کی بنیاد پر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ کون سے آجر اپنے ملازمین کو درست اور قانونی سماجی تحفظ فراہم کررہے ہیں اور کون یہ نہیں کررہا ہے۔

پاکستان کو اگر معاشی میدان میں ترقی کرنا ہے تو شہریوں کی سماجی ترقی کے اقدامات اور فرد کے سماجی تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔ موجودہ معاشی حالات میں یہ ممکن نظر نہیں آرہا کہ ماضی کی طرح ہر شہری کو سماجی تحفظ، تعلیم، صحت اور علاج کی سہولیات حکومتی بجٹ سے فراہم کی جائیں۔ اس لیے انشورنس کے ذریعے سماجی تحفظ کو فروغ دیا جانا ضروری ہے۔ اس صورت میں انفرادی اور خاندانوں کی سطح‌ پر ترقی کا عمل شروع ہوگا اور اس کے نتیجے میں ہم اجتماعی سطح پر ترقی دیکھیں‌ گے۔

اہم ترین

راجہ کامران
راجہ کامران
راجہ کامران سینئر صحافی ہیں۔ کونسل آف اکنامک اینڈ انرجی جرنلسٹس (CEEJ) کے صدر ہیں۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل rajajournalist@ ہے۔

مزید خبریں