منگل, مئی 19, 2026
اشتہار

نیتن یاہو نے قطر پر حماس کی مدد کرنے کا الزام لگا دیا

اشتہار

حیرت انگیز

(17 ستمبر 2025): اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ دوحہ پر حملہ جائز تھا، کیونکہ قطر حماس کو پناہ اور مدد فراہم کرتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ ہفتے دوحہ کے مرکز میں حماس کے رہنماؤں پر حملہ ’جائز‘ تھا کیونکہ قطر کے حماس کے ساتھ تعلقات ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ "قطر حماس سے جڑا ہوا ہے، قطر حماس کو تقویت دیتا ہے، قطر حماس کو پناہ دیتا ہے، قطر حماس کو فنڈ فراہم کرتا ہے، قطر چاہے تو حماس کو روک سکتا تھا، قطرکے پاس حماس پر دباؤ ڈالنے کی طاقت تھی (جو وہ استعمال کر سکتا تھا) مگر اس نے ایسا نہ کیا۔ لہٰذا ہم نے جو کیا وہ بالکل جائز تھا۔‘

اس سے قبل نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ میں نے قطر میں کام کرنے کا فیصلہ کابینہ کے ساتھ کیا "یہ میری ذمہ داری تھی، اور ہم نے وائٹ ہاؤس کو شامل نہیں کیا، حملے کے بعد ٹرمپ سے میری کئی بات چیت ہوئی، اور وہ سب اچھی تھیں۔”

واضح رہے کہ منگل 9 ستمبر کو اسرائیلی فوج نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس رہنماؤں پر حملہ کیا تھا۔

جس کے بعد پیر 15 ستمبر کے روز عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے قطر میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا اور اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک بیان میں دیگر دُنیا کے مُمالک پر زور دیا گیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات پر نظرِ ثانی کریں۔

قطر کے امیر تمیم بن حمد آلثانی نے بھی اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو پر تنقید کی اور کہا کہ ’اسرائیل عرب دنیا کو اپنے اثر و رسوخ کے تحت لانا چاہتا ہے۔‘

قطری امیر نے کہا کہ گزشتہ ہفتے دوحہ پر اسرائیلی حملے کا مقصد ’غزہ سے متعلق مذاکرات کو بند گلی کی جانب دھکیلنا‘ تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں