The news is by your side.

Advertisement

پولش شہریوں کے خلاف نیتن یاہو کا بیان، پولش وزیر اعظم نے دورہ اسرائیل منسوخ کردیا

وارسا : پولش وزیر اعظم نے ہولوکاسٹ میں پولش شہریوں کے ملوث ہونے کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں منعقدہ ایران مخالف کانفرنس سے واپسی کے بعد کہا تھا کہ ہولوکاسٹ کے دوران پولش شہریوں نے نازیوں کے ساتھ مل کر یہودیوں کا قتل عام کیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق پولینڈ کے وزیر اعظم ماتیور موراویکی نے نیتن یاہو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے یروشلم میں وسطی یورپی ممالک کے سفارتی اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا ہے۔

پولیش حکومت کا کہنا ہے کہ ماتیور موراویکی نے نیتن یاہو کو ٹیلی فونک رابطہ کرکے اپنا دورہ منسوخ کرنے اور وزیر خارجہ کے شریک ہونے کی خبر دی۔

وزیر اعظم ماتیور موراویکی کا کہنا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران پولش شہریوں کی بے باک قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، پولش شہریوں کی حقیقی تاریخ کو بیان کرنا ضروری ہے۔

پولش حکومت کا کہنا تھا کہ دوسری عالمی جنگ سے قبل پولینڈ پر جرمن نازیوں کا قبضہ تھا لیکن پولش شہریوں نے ہولوکاسٹ میں نازیوں کی معاونت نہیں کی اگر کسی نے ذاتی حیثیت میں یہودیوں کے قتل عام میں حصّہ لیا ہو تو اس کا پولینڈ سے کوئی تعلق نہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولش حکومت نے دارالحکومت وارسا میں تعینات اسرائیلی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا تھا۔

پولش حکومت کی مذمت پر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نے ردعمل پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میرے بیان کو غلط طریقے اور قیاس آرائیوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جس نے پولینڈ حکومت کو اسرائیل کے خلاف بڑھکا دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے وضاحتی بیان میں کہا کہ ’خبررساں ادارے نے میرے بیان میں ’پولینڈینز‘ کی اصطلاح استعمال کی جو تمام پولش شہریوں پر یہودیوں کے قتل عام کا الزام عائد کررہی ہے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ میں اپنے بیان میں ان چند پولش شہریوں کا ذکر کیا تھا جنہوں نے یہودیوں کے قتل عام میں جرمن نازیوں کا ساتھ دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں