The news is by your side.

Advertisement

دورۂ پاکستان: کیا ملکہ میسکسیما کو پھول بہت پسند ہیں؟

نیدر لینڈز کی ملکہ ہمارے ملک میں ہیں۔ یہ ان کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہے۔ میکسیما اس بار اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ بن کر یہاں آئی ہیں۔ ان کا یہ دورہ عالمی ادارے کے تحت ترقی میں اجتماعی معاونت کے پروگرام کی ایک کڑی ہے۔

یہ تو وہ باتیں اور معلومات ہیں جو آج سارا دن مختلف ذرایع ابلاغ نے آپ تک پہنچائی ہیں اور ابھی یہ سلسلہ جاری رہے گا، مگر ہم آپ کو کچھ خاص اور سب سے الگ بتانے جا رہے ہیں۔

ملکہ اپنے دورۂ پاکستان میں سرکاری اور نجی شعبوں کی متعدد نمایاں شخصیات سے ملاقات کریں گی۔ بتایا گیا ہے کہ ملکہ میکسیما اسٹیٹ بینک کے مائیکرو پیمنٹ گیٹ وے پروگرام کی افتتاحی تقریب کی مہمان بھی ہوں گی۔ یہ پروگرام مجموعی مالی تعاون کے فروغ، چھوٹی ادائیگیوں کی لاگت کم کرنے اور  ڈیجیٹل لین دین میں اضافے کی غرض سے شروع کیا گیا ہے۔

نیدر لینڈز کی ملکہ تو ابھی تین روز تک ہمارے ہی ملک میں رہیں گی اور خصوصی نمائندہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گی۔ کیوں نہ ہم اُن کے وطن کی سیر کر آئیں!

نیدر لینڈز جسے اکثریت ہالینڈ بھی کہتی اور لکھتی ہے، یورپ میں واقع ہے۔ یہ خطہ پھولوں کی سرزمین کہلاتا ہے۔ کئی دہائی پہلے کا یہ سفر نامہ ملکہ کی آمد کے ساتھ ہی گویا پھر تازہ ہو گیاہے۔ یہ سطور ممتاز احمد خاں جیسے خوب صورت لکھاری اور صحافی کے قلم کی نوک سے نکلی ہیں جو آپ کی دل چسپی کے لیے پیش ہیں۔

ہالینڈ کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی جو چیز سب سے زیادہ آپ کو متاثر کرتی ہے وہ ہے اس ملک کی شادابی، پانی کی فراوانی اور غیر معمولی صفائی ستھرائی۔

سارا ملک ایک باغ معلوم ہوتا ہے۔ چاروں طرف گل و گل زار کا سا سماں ہے۔ شہر اور بن میں کوئی فرق نہیں۔ صفائی، سلیقے اور دل آویزی میں دونوں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کو کوشاں ہیں۔

اس ملک کا کونا کونا دیکھنے کا اتفاق ہوا، لیکن چپّا بھر زمین بھی گندگی سے آلودہ نہ دیکھی۔ یا سبزہ ہے یا پھول پھلواری۔

صفائی اور پھولوں کے یہ لوگ شیدائی ہیں۔ کوئی گھر ایسا نہیں جو پھولوں سے خالی ہو۔ مزدوروں کے فلیٹ بھی ہمارے بنگلوں سے بہتر ہیں۔ اہلِ ہالینڈ نے پھولوں سے اپنی شیفتگی کو باقاعدہ صنعت کی شکل دے دی ہے۔ بہار میں چاروں طرف پھولوں سے لدے ہوئے کھیت دکھائی دیتے ہیں جن میں گلِ لالہ کی سیکڑوں نئی اقسام پیدا کی گئی ہیں جو رنگ، رعنائی قد اور عمر میں ایک دوسرے سے مختلف بھی ہیں۔ کئی ہزار ٹن پھول یہاں سے غیر ممالک کو بھیجے جاتے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں