The news is by your side.

Advertisement

کراچی: ملیر میں چکن گونیا بیماری، مزید 45مشتبہ مریض رپورٹ

کراچی: ملیر میں پھیلنے والی بیماری چکن گونیا کے مزید پینتالیس مشتبہ مریض اسپتال لائے گئے جبکہ چکن گونیا سےبچنے کے لئے وفاقی حکومت نے ہدایات جاری کردیں۔

کراچی کے علاقے ملیر میں چکن گونیا پنجے گاڑنے لگا ہے، مزید پینتالیس مشتبہ مریض گورنمنٹ اسپتال سعودآباد میں رپورٹ ہوئے، انتظامیہ نے ٹیسٹ کے لئے خون کے نمونے لے لیے ہیں، انتظامیہ کے مطابق اضافی ڈاکٹر کی ٹیم میں سے کوئی نائٹ ڈیوٹی کرنے کو تیار نہیں، جس سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اسپتال کے پندرہ ڈاکٹر بدستور زیرِ علاج ہیں، پیرامیڈیکل اسٹاف کے تیس ملازمین بھی اس وائرس سے متاثرہیں، اسلئے پیرامیڈیکل اسٹاف کی کمی کاسامنا ہے۔

دوسری جانب چکن گونیا سے متعلق وفاقی حکومت نے اہم معلومات جاری کردیں، بتایا گیا ہے کہ متاثرہ مادہ مچھر کے کاٹنے سے وائرس انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، مچھر کے کاٹنے کے اوقات دن کی روشنی اور سہ پہر کے بعد ہیں، وائرس والے مچھرکی افزائش صرف صاف پانی میں ہوتی ہے۔ مچھر کاٹنے کے چار سے آٹھ روز کے اندر علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

غیرمتواتر بخار اور جوڑوں پٹھوں کا درد، خارش اور سردرد علامات ہیں۔

چکن گونیا کے شکار افراد میں بیماری عموماً پیچیدہ نہیں ہوتی جبکہ عمررسیدہ، ناتواں افراد میں بیماری شدت سے ظاہر ہوسکتی ہے۔

یاد ریے گذشتہ روز بھی کراچی کے علاقے ملیر کھوکھراپار چمن کالونی میں چکن گنیا وائرس کے تین مریضوں کی تصدیق ہوگئی تھی، رپورٹ کے مطابق گیارہ سالہ عمر، 45 سالہ اخلاق اور 9 سالہ زوہیب میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔


مزید پڑھیں : کراچی،ملیر کے تین مریضوں میں چکن گونیا کی تصدیق


ڈائریکٹر ہیلتھ کے مطابق 19 دسمبر سے اب تک سندھ گورنمنٹ اسپتال سعودآباد میں 72 ایسے مریض آئے ہیں جن میں اس مرض کے واضح امکانات پائے گئے ہیں، دیگر متاثرہ مریضوں کے نمونے بھی این آئی ایچ اسلام آباد بھیجے گئے ہیں، تاکہ بروقت تشخیص میں مدد مل سکے ۔

ماہرین صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ تیز بخار ، سر میں درد، اور جوڑوں میں شدید کھچاؤ کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹروں سے رجوع کریں اور قریبی واقع سرکاری اسپتالوں میں قائم ایمرجنسی ڈیسک سے رابطہ قائم کیا جائے ۔

مذکورہ علامات کی صورت میں ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق پینا ڈول، پیراسیٹا مول، استعمال کی جائیں، دیگر ادویات کا استعمال پلیٹیلیٹس کی کمی کاسبب بن جائے گا، وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد تمام متاثرہ مریض ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات استعمال کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں