اسلام آباد (13 نومبر 2025): ایوان بالا (سینیٹ) سے منظور 27ویں آئینی ترمیم کے بل میں شامل کی جانے والی نئی ترامیم کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
27ویں آئینی ترمیم کے بل میں 8 نئی ترامیم کی گئی ہیں جن میں 4 حذف اور 4 کا اضافہ کیا گیا، آئین کے آرٹیکل 6 کی شق 2 اے میں لفظ ’وفاقی آئینی عدالت‘ داخل کیا گیا جبکہ آرٹیکل 10 میں گرفتاری و حراست سے متعلق ضوابط کے تحت نظر ثانی بورڈ کے قیام کی شق میں تبدیلی کی گئی، یہ پہلے چیف جسٹس پاكستان کے تحت تھی لیکن نئے بل میں سپریم کورٹ آف کی اصطلاح داخل کی گئی۔
آرٹیکل 176 کے تحت موجودہ چیف جسٹس آئین کے تحت چیف جسٹس پاكستان کہلائیں گے، موجودہ چیف جسٹس (یحییٰ آفریدی) کے دورانیے کیلیے یہ لقب برقرار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں آئینی ترمیم: قومی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت سے منظور
نئے قانون کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام آئین میں شامل کیا گیا، سپریم کورٹ کے بعض آئینی اختیارات اس نئے ادارے کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔
گزشتہ روز خبر سامنے آئی تھی کہ سینیٹ سے منظور ترامیم وفاق نے واپس لینے کی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کی۔ وفاقی حکوت کی 27ویں آئینی ترمیم کی شق 4 کو حذف کرنے کی تجویز ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سینیٹ سے منظور شدہ آئین 27ویں ترمیمی بل 2025 میں شق 4 کو حذف کیا جائے۔
وزیر قانون نے کہا کہ سینیٹ سے منظور شدہ بل 2025 میں شق 19 کو بھی حذف کیا جائے، ترمیم کی شق 4 میں چیف جسٹس کے عہدے میں ابہام تھا جسے دور کیا ہے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ بحال رہے گا، ترمیم کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے، دونوں عدالتوں میں سے جو چیف جسٹس سینئر ہوں گے وہ کمیشن کو چیئر کریں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


