The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے خوشخبری

ریاض: سعودی عرب میں بین الاقوامی کاروبار میں 50 فیصد اضافے کے لیے نئے سرمایہ کاری قانون کا اعلان کردیا گیا، نئے قانون سے مملکت میں تجارتی سرگرمیاں بڑھنے کی امید ہے۔

سعودی عرب کاروبار کے عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ملک کے قانونی نظام کو بہتر بنانے کی غرض سے وزارت سرمایہ کاری کے حالیہ اقدام کے نتیجے میں بین الاقوامی کاروباری اداروں میں 50 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

قانون کے مطابق غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا کیونکہ مملکت تیل کی برآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنی معیشت کو متنوع بنانا چاہتی ہے۔

سرمایہ کاری کے نئے قانون کے اعلان سے قبل عالمی بینک نے پیش گوئی کی تھی کہ سنہ 2022 کے آخر تک مملکت کی جی ڈی پی 820 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جو سنہ 2020 کی 700 ارب ڈالر کی پیشن گوئی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

ماہرین کے مطابق سرمایہ کاری کے اس نئے قانون کے تحت مزید غیر ملکی سرمایہ کار سعودی عرب میں آئیں گے جس کے نتیجے میں ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

خود مختار سعودی عرب کے مینیجنگ ڈائریکٹر پال آرنلڈ کا کہنا ہے کہ دبئی ایکسپو میں سعودی پویلین میں 46 لاکھ سے زائد افراد کی آمد ہوئی تھی۔ اس سے سعودی عرب کی کاروباری صلاحیت کے بارے میں ایک نئی آگہی پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی سرمایہ کاروں کے لیے مسابقتی غیر جانبداری کے اصول کو قانونی طور پر نافذ کر کے تجارتی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

نیا قانون غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنے معاشی منصوبوں کا انتظام کرنے، فروخت کرنے، ٹھکانے لگانے اور کسی بھی ضروری جائیداد کے مالک ہونے کی آزادی دے گا۔

یہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں دونوں کو تمام اہل سرکاری حکام کی مکمل حمایت دے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ دونوں مخصوص معاشی سرگرمیوں یا زونز کے لیے درکار اجازت ناموں، رجسٹریشن، لائسنس اور منظوری کے لیے ایک ہی شعبہ جاتی منظوری کے تقاضوں سے مشروط ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں