The news is by your side.

Advertisement

بھارت کے 30 فوجی 6 قبائلی مزدوروں کے قتل میں ملوث

نئی دہلی : بھارت کی شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ کے پولیس افسر نے کہا ہے کہ 30 فوجیوں پر چھ قبائلی مزدوروں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گزشتہ سال سرحدی ریاست میں جاری شورش کے خلاف ہونے والے عسکری آپریشن کے دوران مزدوروں کو عسکریت پسند سمجھتے ہوئے گولیاں مار کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

سرحد پر تعینات فوجی اہلکاروں کو غلط فہمی ہوئی کہ مزدوروں کا گروہ دراصل عسکریت پسند ہیں جو میانمار سے بھارت میں داخل ہو رہے ہیں جس کے بعد ان پر فائر کھول دیا گیا۔

ناگالینڈ کے پولیس سربراہ ٹی جے لانگ کمیر نے صحافیوں کو بتایا کہ تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ آپریشن ٹیم نے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے اور فوجی افسران نے غیر متناسب فائرنگ کی۔

گزشتہ سال دسمبر میں کونیاک قبیلے سے تعلق رکھنے والے13 افراد اور ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

چھ کان کن کام سے واپس آرہے تھے جب انہیں ناگالینڈ کے علاقے اوٹنگ میں ہلاک کردیا گیا، سات مزید افراد کو اس وقت گولی مار کے ہلاک کر دیا جب گولیوں سے چھلنی لاشیں ایک فوجی ٹرک میں پڑی دیکھ کر گاؤں والوں کا فوجی اہلکاروں کے ساتھ تصادم ہوا۔

پولیس سربراہ ٹی جے کے مطابق 30 فوجی اہلکاروں پر مقدمہ چلانے کی غرض سے چار شیٹ جمع کروا دی گئی ہے, انڈین وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے کہا کہ کیس عدالت کے سامنے رکھ دیا گیا ہے جو اس پر حتمی فیصلہ سنائے گی۔

حالیہ ہلاکتوں کے بعد آرمڈ فورسز پاور ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) کے خلاف احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس قانون کے تحت انڈین فوج کو "شورش زدہ علاقوں” میں سرچ، گرفتاری اور گولی مارنے کا اختیار حاصل ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں فوجی اہلکاروں کو انڈیا کے شمال مشرق میں تعینات کیا گیا ہے جہاں موجود قبائلی گروہوں میں سے چند نے حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کر رکھا ہے۔

یہ علیحدگی پسند گروہ حکومت پر وسائل کے لوٹ مار اور ان کے حق میں اقدامات نہ اٹھانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اے ایف ایس پی اے کا قانون ریاست ناگالینڈ کے ضلع مون سمیت شمال مشرقی ریاستوں کے کئی علاقوں میں نافذالعمل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں