The news is by your side.

Advertisement

نئی دہلی : جمہوریت کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں، بھارتی شاہی مسجد امام

ملک میں آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،مولانا سید احمد بخاری

نئی دہلی : بھارت کی مشہور جامع مسجد دہلی کے امام مولانا سید احمد بخاری نے جھاڑکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز کارروائیوں کے حالیہ واقعہ پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق شاہی مسجد امام مولانا سید احمد بخاری نے کہا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوریت کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں۔

ملک آئین سے چلتا ہے فرقہ واریت سے نہیں لیکن جب فرقہ پرست قوتیں آئین کو جیب میں ڈال لیں‘ آئین کی بالادستی اورعمل آوری سوالات کے گھیرے میں آجائے اور انسانی حقوق پامال کئے جانے لگیں اور حکومت کا رویہ جانبدارانہ ہوجائے تو یہ کسی بھی جمہوری ملک کے لئے اچھی علامت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں کہتی ہیں کہ مسلمانوں نے جو مانگا وہ ان کو ہم نے دیا۔ سوال یہ ہے کہ سابقہ و برسر اقتدار جماعتوں اور مرکز و راجستھان کی موجودہ سرکاروں سے کیا مسلمانوں نے یہی مانگا تھا جو آج انہیں دیا جارہاہے۔

پہلو خاں کو ہجومی تشدد میں ہلاک کر دیا گیا اور ان ہی کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قیام امن کے لئے ہجومی تشدد کے واقعات کو روکنا ہوگا کیوں کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں انصاف کے بغیر امن کا تصور ممکن نہیں ہے۔

شاہی امام نے کہا کہ جب ظلم و تشدد عدل کے دائرے سے باہر ہوجاتا ہے تو اس ناانصافی کی کوکھ سے مختلف برائیاں جنم لیتی ہیں لیکن ہمیں کسی بھی قیمت پر ہندوستان کو اس سے بچانا ہوگا۔ کیوں کہ یہ مسئلہ اب کسی جماعت یا نظریہ کانہیں رہ گیا۔ یہ برا ہ راست ملک کی سلامتی اور ترقی سے جڑگیا ہے۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں