The news is by your side.

Advertisement

دہلی ریپ کیس : اجتماعی زیادتی اور قتل کے چاروں مجرم پھندے پر جھول گئے

نئی دہلی : چلتی بس میں ایک طالبہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرموں کو تہاڑ جیل میں آج صبح 5:30 بجے پھانسی دے دی گئی، چاروں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نربھیا کیس میں سزا یافتہ 4مجرمان کو آج بروز جمعہ کی علی الصبح 5:30 بجے پھانسی دی دے دی گئی، اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

زیادتی کیس میں ملوث ملزمان اکشے ٹھاکر ، ونے شرما، پون گپتا اور مکیش سنگھ کو تیز ترین ٹرائل کے بعد 2013 میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جس پر عمل درآمد تقریباً چھ سال بعد ہوا۔

بھانسی کے بعد نربھیا کے والدین کا کہنا تھا کہ آخر انصاف ہوا۔ دہلی پولیس کمشنر نے کہا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ نربھیا کو آخر کار انصاف ملا۔ مجرموں کی لاشوں کو دین دیال اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا گیا،اس کے بعد لاشیں اہلخانہ کو سونپ دی جائیں گی۔

پھانسی دینے سے قبل تہاڑجیل میں صبح ساڑھے تین بجے چاروں مجرموں کوجگایا گیا ، حالانکہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کوئی بھی صحیح طرح سویا ہوانہیں تھا۔

چاروں مجرمین کو جگانےکے بعد نہانے کے لئے کہا گیا۔ چار بجے جلاد سندیپ گوئل جیل پہنچے۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے کمرے سے پھانسی کی رسی کے بکسے لائے گئے۔ مجرمین کو ان کی آخری خواہش کے مطابق انہیں پوجا پاٹھ کرنے دیا گیااور اس کے لئے پنڈت کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔

اس کے بعد مجرمین کو ناشتہ کرنے کے لئے کہا گیا۔اس کے بعد ضلع مجسٹریٹ جیل پہنچے اور چاروں سے پھر ان کی آخری خواہش پوچھی گئی اورپھر ان کی طبی جانچ کی گئی اور پھر ان کو کالے کپڑے پہنائے گئے۔

اس کے بعد ڈی جی جیل، جیل سپرنٹنڈنٹ ، تین ڈپٹی جیل سپرنٹنڈنٹ، دو ڈاکٹر، ضلع افسر اورپنڈت جی کی موجودگی میں چاروں کو پھانسی دے دی گئی۔

واضح رہے کہ نربھیا کیس میں ملوث ملزمان نے دہلی ہائی کورٹ سزا معطلی کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی جس کا عدالت نے جمعرات کی رات فیصلہ جاری کیا۔

رپورٹ کے مطابق ملزمان کے وکیل اے پی سنگھ نے ٹرائل کورٹ میں سزا معطلی کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، عدالت نے درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر نمٹا دیا تھا۔

مزید پڑھیں : بھارت زیادتی کیس کے مجرمان کو صبح پھانسی دی جائے گی، نظر ثانی درخواست آخری وقت میں مسترد

یاد رہے کہ دسمبر 2012 میں چلتی بس میں ایک طالبہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیے گئے تھے، نربھیا کیس میں چھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم رام سنگھ نامی ملزم نے مارچ 2013 میں جیل میں ہی خود کشی کرلی تھی،۔

اجتماعی زیادتی کے الزام میں ایک 17 سالہ نوجوان بھی گرفتار ہوا تھا جسے تین برس قید کی سزا سنائی گئی اور وہ بھارتی قانون کے مطابق نابالغ مجرموں کو ریپ کیس میں اس سے زیادہ سزا نہیں دی جاسکتی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں