The news is by your side.

Advertisement

مودی کو منہ کی کھانا پڑگئی

نئی دہلی: دہلی اسمبلی میں متنازع بھارتی شہریت کے قانون کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں مسلم کش فسادات کی وجہ بننے والا متنازع قانون دہلی اسمبلی نے مسترد کردیا۔ متنازع قانون کے خلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی گئی۔

وزیراعلیٰ دہلی اروند کیجروال نے سوال اٹھایا کہ 90فیصد بھارتیوں کے پاس سرکاری پیدائشی سند نہیں ہے تو کیا 90 فیصد بھارتیوں کو حراست میں لیا جائے گا؟

ان کا کہنا تھا کہ متنازع شہریت کا خوف سب کو پریشان کررہا ہے، مرکزی حکومت سے اپیل کرتا ہوں بل کو فی الفور واپس لیا جائے۔ دہلی اسمبلی نے متنازع قانون کو اقلیتوں کے خلاف قرار دے دیا۔

دہلی فسادات کی سخت مذمت، پاکستان ہندو کونسل نے مودی کو ہٹلر قرار دے دیا

یاد رہے کہ بھارت کے شہر نئی دہلی میں گزشتہ ماہ اچانک ہندو انتہا پسندوں نے متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کرنے والے مظاہرین پر حملے کیے اور مسلمانوں کے گھر بھی نذر آتش کیے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں اب تک پولیس اہلکار سمیت 50 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

انٹرنیٹ پر کئی ایسی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہندو انتہا پسندوں کو پولیس کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اور وہ انہیں روکنے کے بجائے مظاہرین پر تشدد کررہے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں