The news is by your side.

Advertisement

سعودی امیگریشن قوانین میں تبدیلیاں، خروج و عودہ میں توسیع کیسے ہوگی؟

ریاض: امیگریشن قوانین میں تبدیلیوں کے بعد محکمہ جوازات نے کچھ اہم وضاحتیں اور ہدایات جاری کی ہیں، ان قوانین میں تبدیلیاں اقامہ ہولڈر تارکین وطن کے لیے کافی فائدہ مند ہوں گی۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب میں گزشتہ برس سے امیگریشن قوانین میں کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کا مقصد شہریوں اور یہاں رہنے والے غیر ملکیوں کو سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

ان قوانین میں کی جانے والی تبدیلیوں سے ایسے اقامہ ہولڈر تارکین وطن کو کافی فائدہ ہوگا جو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مملکت میں مقیم ہیں۔

امیگریشن قوانین میں تبدیلیوں سے قبل تارکین کے وہ اہل خانہ جو خروج وعودہ پر جاتے تھے انہیں خروج و عودہ کی مدت ختم ہونے سے قبل لازمی طور پر مملکت آنا ہوتا تھا جس کے بعد ہی ان کا اقامہ تجدید کیا جاتا تھا۔

اقامہ کی تجدید اور خروج و عودہ کے دوبارہ اجرا کا عمل سعودی عرب آئے بغیر ممکن نہیں تھا جو تارکین پر اضافی مالی بوجھ کا باعث تھا۔

ایسے تارکین جن کے بچے اعلیٰ تعلیم کے لیے مملکت سے باہر جاتے تھے، انہیں سال میں دو چکر لگانے پڑتے تھے تاکہ اقامہ کی تجدید اور دوبارہ ایگزٹ ری انٹری ویزہ حاصل کیا جا سکے۔

ایک شخص نے خروج و عودہ قانون کے حوالے سے دریافت کیا کہ چھٹی پر پاکستان گئے ہوں، تو خروج و عودہ کی مدت میں توسیع اپنے ابشر اکاؤنٹ سے کی جا سکتی ہے یا کفیل کے ذریعے ہی ممکن ہے؟

اس حوالے سے جوازات کی جانب سے کہا گیا کہ قانون کے مطابق گزشتہ برس سے بیرون مملکت خروج و عودہ پر جانے والوں کے لیے یہ سہولت جاری کی گئی ہے کہ ان کے خروج و عودہ اور اقامہ کی مدت میں مملکت سے باہر رہتے ہوئے بھی توسیع کروائی جاسکتی ہے۔

ایسے اقامہ ہولڈرز جو مملکت سے باہر ہیں ان کے اسپانسر کے ابشر یا مقیم اکاؤنٹ کے ذریعے اقامہ اور خروج و عودہ کی مدت میں توسیع کروائی جا سکتی ہے۔

نئی تبدیلیوں سے قبل اقامہ ہولڈر غیر ملکیوں کے اقاموں اور خروج وعودہ کی مدت میں مملکت سے باہر رہتے ہوئے توسیع کرنا ناممکن ہوا کرتی تھی۔

امیگریشن قوانین میں تبدیلی کے بعد مملکت سے باہر گئے ہوئے اقامہ ہولڈرز کے خروج و عودہ ایگزٹ ری انٹری کی مدت میں ابشر اکاؤنٹ کے ذریعے توسیع کروانا ممکن ہوگیا ہے۔

قانون کے تحت غیر ملکی کارکن کے اقامے اور خروج و عودہ کی مدت میں توسیع ان کے اسپانسر کے ابشر یا مقیم اکاؤنٹ کے ذریعے کی جاتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں