The news is by your side.

Advertisement

توہین عدالت کیس : ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کیخلاف فیصلہ محفوظ

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے استعفیٰ دے دیا،وزیراعلیٰ عثمان بزدار

لاہور : توہین عدالت کیس میں اے جی پنجاب کیخلاف لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جےآئی ٹی کیس سے متعلق سماعت19اپریل تک ملتوی کردی، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہورہائی کورٹ میں پیش ہوکر بتایا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نےاستعفیٰ دے دیاہے۔

تفصیلات کےمطابق لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس محمدقاسم خان کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمداویس کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی، عدالت نے وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر قانون اور چیف سیکرٹری پنجاب کو 3 بجے طلب کرلیا اور رجسٹرارلاہورہائیکورٹ کو عدالتی حکم  پر عملدرآمدکرانے کاحکم دیا۔

جسٹس قاسم خان نے ریمارکس میں کہا توہین عدالت کامعاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا، جس پر حامد خان نے کہا اگرکسی کی آواز قدرتی اونچی ہوتو ججز نظر انداز کر دیتے ہیں، تو جسٹس قاسم خان کا کہنا تھا اگرکوئی گالیاں نکالناشروع کردےتوپھرکیاکیاجائے۔

حامدخان نے کہا ایسےشخص کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے، عدالت کی عزت واحترام کونظرانداز نہیں کرناچاہیے، ہماری گزارش ہے جناب  اس معاملےکودرگزرکیاجائے، عدالت کی مہربانی کرنے سے عدالت کے وقارمیں اضافہ ہوتاہے۔

احمداویس کا کہنا تھا عدالت کی توہین کرناقطعی مقصدنہیں تھا۔

عدالتی حکم پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارلاہورہائی عدالت میں پیش ہوئے ، وزیرقانون پنجاب،چیف سیکریٹری اورسیکریٹری قانون بھی ان کے ساتھ ہیں۔

جسٹس محمدقاسم خان نے وزیراعلیٰ سےاستفسار کیا کیا آپ کوبتایاگیاہےکہ آپ کوکیوں بلایاہے، اے جی پنجاب معز زعہدہ ہے، جس کاسب احترام کرتےہیں، دیکھ لیں یہاں کیاحال ہوگیاہے، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا خود بھی وکیل ہوں اورعدالتوں کااحترام کرتاہوں، میرے والدفوت ہوگئے تھے، آج ہی وہاں سےواپس آیا ہوں۔

عثمان بزدار نے کہا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کوبلایاانہوں نےمستعفی ہونےکی پیشکش ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نےاستعفیٰ دےدیاہے ، جس پر عدالت کا کہنا تھا جب کوئی لاافسر بنتاہےتواس کاتعلق سیاسی جماعت سے نہیں رہ جاتا تو وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا آئندہ ایساہرگز نہیں ہوگا، ہم عدلیہ کامکمل احترام کرتےہیں۔

لاافسران کی تعیناتی میں پہلے چیف جسٹس ہائیکورٹ سےمشاورت ہوتی تھی، اس بارحکومت نےمشاورت نہیں کی، عدالت

عدالت نے ریمارکس میں کہا لاافسران کی تعیناتی میں پہلے چیف جسٹس ہائیکورٹ سےمشاورت ہوتی تھی، اس بارحکومت نےمشاورت نہیں کی، احمد اویس  ایک بہت قابل وکیل ہیں افسوس ہےاحمد اویس ملزم کی حیثیت سےیہاں موجودہیں، جس طرح کارویہ اپنایاگیاوہ انتہائی قابل افسوس ہے۔

حسٹس عالیہ نیلم کا کہنا تھا عدالتوں میں صرف قانون کی بات ہوگی، کسی کیس میں وکلاکی تعداددیکھ کرفیصلےنہیں ہوتے ، جس پروزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا   ہمارےنئےوکیل عدالت میں پیش ہوں گے، ہمارے نئےوکیل ماڈل ٹاؤن جےآئی ٹی میں پیش ہوں گے۔

توہین عدالت کیس میں اے جی پنجاب کیخلاف لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور  سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کیس سے متعلق سماعت 19 اپریل تک ملتوی کردی۔

خیال رہے عدالت نے ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی کیس میں بدتمیزی پرتوہین عدالت نوٹس دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں