The news is by your side.

Advertisement

ملیریا کی نئی دوا بچوں میں کتنی مؤثر ہے؟

ملیریا کی نئی دوا ٹیفنوکوئن کے حوالے سے محققین نے دریافت کیا ہے کہ اس کے استعمال سے 95 فی صد بچوں کو ملیریا سے طویل المدت تحفظ حاصل ہوا۔

2020 میں جی ایس کے اور ایم ایم وی نے باہمی اشتراک سے اس حوالے سے کی گئی ایک تحقیق میں معلوم کیا کہ 2 سے 6 سال کے بچوں کو ٹیفنوکوئن (Tafenoquine) کی 50 ملی گرام والی ایک خوراک، ملیریا کی موجودہ دوا ’کلوروکوئن‘ کے ساتھ دینے پر 95 فی صد بچوں کو ملیریا سے طویل مدتی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

تین دن قبل آسٹریلوی حکومت نے بچوں کے لیے ملیریا کی اس نئی دوا کے استعمال کی منظوری دے دی ہے، یہ دوا ’گلیکسو اسمتھ کلائن‘ (جی ایس کے) نے عالمی تنظیم ’میڈیسنز فار ملیریا وینچر‘ (ایم ایم وی) کے تعاون سے 2017 میں تیار کی ہے۔

آسٹریلوی حکومت نے اس دوا کی منظوری دے کر دیگر 9 ممالک اور عالمی ادارۂ صحت کو بھی اس اس دوا کی منظوری کے لیے درخواستیں جمع کروا دی ہیں، یاد رہے کہ اس سے قبل مذکورہ دوا کو کئی ممالک میں بالغ افراد کے استعمال کے لیے پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے۔ ان ممالک میں یہ دوا ’کوزینس‘ (Kozenis) کے برانڈ نام کے ساتھ دستیاب ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملیریا کے شکار بالغ افراد کو اس دوا کی 150 ملی گرام کی 2 خوراکیں دی جاتی ہیں، اب طبی ماہرین نے کہا ہے کہ چھوٹے بچوں کو 50 ملی گرام والی ایک خوراک دی جانی چاہیے۔ تاہم 62 فی صد بچوں میں اس دوا کے استعمال سے متلی اور اُلٹی کی معمولی شکایات سامنے آئی ہیں، یہ علامات کچھ دنوں کے بعد خود دور ہو گئیں۔

اس حوالے سے جو تحقیقی مطالعہ کیا گیا، اس کے نتائج میں ماہرین نے پایا کہ چار ماہ گزرنے کے بعد بھی 95 فی صد بچوں کو ملیریا نہیں ہوا۔ اس تحقیق کے مثبت نتائج موصول ہونے کے بعد دوا ساز کمپنی نے اس دوا کی منظوری کے لیے آسٹریلیا کو درخواست جمع کروائی جو حکومت کی جانب سے قبول کر لی گئی۔

واضح رہے کہ یہ دوا بطورِ خاص ’پلازموڈیم ویویکس‘ (P. vivax) نامی طفیلیے (پیراسائٹ) سے ہونے والے ملیریا کے علاج اور بچاؤ کےلیے تیار کی گئی ہے۔ یہ پیراسائٹ پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی امریکا اور افریقا کے مشرقی ممالک (سوڈان، صومالیہ، کینیا اور ایتھوپیا) میں ہر سال کم از کم 50 لاکھ افراد کو متاثر کرتا ہے، اور اس سے متاثر ہونے کا امکان بڑوں کے مقابلے میں 2 سے 6 سال کے بچوں میں 4 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں