منگل, فروری 10, 2026
اشتہار

طلبا کے لئے اہم خبر ! میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے بڑی شرط عائد

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور : سرکاری اور پرائیویٹ میڈیکل و ڈینٹل کالجز کے لیے نئی داخلہ پالیسی سامنے آگئی ، جس میں طلبا کے لیے بڑی شرط عائد کردی گئی۔

تفصیلات کے مبطاوزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی دارالحکومت لاہور میں محکمہ صحت کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صحت کے شعبے میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں پنجاب کے پبلک اور پرائیویٹ میڈیکل و ڈینٹل کالجز کے لیے نئی داخلہ پالیسی کی منظوری دی گئی۔

فیصلے میں کہا گہا کہ سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پاس کرنا لازمی قرار دیا گیا جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کے لیے ایم ڈی کیٹ فیس 20 ہزار ڈالر مقرر کی گئی۔

مزید برآں، پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فہرست میں نام آنے والے امیدوار کو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ایک تہائی فیس جمع کرانا ہوگی، جو بعد میں متعلقہ کالج کو منتقل کر دی جائے گی اور باقی فیس امیدوار کو میرٹ لسٹ کے اجرا کے بعد براہ راست کالج میں جمع کرانی ہوگی۔

اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ پرائیویٹ اسپتالوں میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹرز لازمی سروس انجام دیں گے، جبکہ اسپیشلسٹ کی طلب کے مطابق ٹرینی ڈاکٹروں کو متعلقہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے شعبوں میں اسپیشلائزیشن کے لیے بھیجا جائے گا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ساہیوال میں پہلی کامیاب انجیو پلاسٹی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ صوبے کے دیگر کارڈیک مراکز کو بھی جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔

انہوں نے میو اسپتال کے ابلیشن سینٹر میں علاج کے لیے شفاف اور فول پروف طریقہ کار بنانے کی ہدایت دی اور کینسر کے مریضوں کو ہر ممکن ریلیف دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔

اجلاس میں پنجاب میں نئے میڈیکل کالجوں کی الگ بلڈنگز بنانے کے بجائے سرکاری یونیورسٹیوں میں میڈیکل بلاکس قائم کرنے کی تجویز پر بھی اتفاق کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے پنجاب کے مختلف اداروں کے بورڈ آف مینجمنٹ کی منظوری دی اور زور دیا کہ صوبے کے ہر اسپتال میں غریب مریضوں کو بغیر کسی مالی بوجھ کے علاج کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے نواز شریف میڈیکل سٹی کے جلد قیام کے لیے بھی فوری اقدامات کی ہدایت کی اور کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پنجاب میں کینسر کے ہر مریض کا علاج ممکن بنایا جائے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں