کراچی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا، جس کے تحت شرح سود برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے اگلی سہ ماہی کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کیا جائے گا، جس پر کاروباری اور مالیاتی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔
شرح سود برقرار رہنے کی امکان ہے ، اس وقت ملک میں پالیسی ریٹ گیارہ فیصد ہے اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے گزشتہ چار مرتبہ شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا جا چکا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا، جس میں مہنگائی، کرنٹ اکاؤنٹ اور مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا، نومبر 2025 میں ملک میں مہنگائی کی شرح 6.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو پچھلے مہینوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال جولائی سے اکتوبر کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 733 ملین ڈالر رہا، جسے معاشی دباؤ کی ایک اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب کراچی کی تاجر برادری نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے شرح سود میں ایک فیصد کمی کی جائے اور پالیسی ریٹ کو 10 فیصد پر لایا جائے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ بلند شرح سود کے باعث صنعتوں اور کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


