اسلام آباد (10 فروری 2026): نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نئے اور پرانے سولر صارفین کے لیے بجلی فروخت کے نرخ مقرر کر دیے ہیں۔
نیپرا نے شمسی توانائی کے ذریعہ بنائی جانے والی بجلی کو نیشنل گرڈ کو فروخت کرنے کی نئی شرحوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے لیے نئے اور پرانے سولر صارفین کے لیے علیحدہ علیحدہ نرخ مقرر کیے ہیں۔
نیپرا کے نئے قواعد کے مطابق موجودہ سولر صارفین شمسی توانائی سے پیدا کردہ بجلی کو نیشنل گرڈ کو بدستور پرانی شرح یعنی 25.32 فی یونٹ کی قیمت پر فروخت کرتے رہے ہیں، تاہم نئے سولر صارفین کو نیشنل گرڈ اس سے انتہائی کم قیمت پر بجلی خریدے گا۔
بجلی کی خریداری کی شرح میں 17.19 روپے فی یونٹ کمی کے باعث نئے سولر صارفین نیشنل گرڈ کو صرف 8.13 روپے فی یونٹ کی قیمت پر بجلی فروخت کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی کل تعداد تقریبا 466،000 ہے ، ان میں سے 82 ٪ بڑے شہروں میں واقع ہے۔
سولر صارفین کی اکثریت لاہور (24 ٪) ، ملتان (11 ٪) ، راولپنڈی (9 ٪) ، کراچی (7 ٪) ، اور فیصل آباد (6 ٪) جیسے شہروں میں رہتی ہے۔
پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے مطابق پاکستان میں اس وقت سات ہزار میگا واٹ نصب خالص میٹرنگ شمسی صلاحیت ہے، جس میں اضافی 13،000 سے 14،000 میگا واٹ آف گرڈ صارفین تیار کرتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


