The news is by your side.

Advertisement

نئی پرائیویسی پالیسی: واٹس ایپ نے یوٹرن لے لیا

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ موبائل ایپ واٹس ایپ کی انتظامیہ نے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی پرائیویسی پالیسی قبول نہ کرنے والوں کی فیچر تک رسائی محدود نہیں کی جائے گی۔

قبل ازیں واٹس ایپ نے واضح کیا تھا کہ وہ صارفین جو ہماری پالیسی تسلیم نہیں کرتے انہیں ایپلکیشن پر محدود کردیا جائے گا مختلف اور نئے فیچرز تک رسائی بھی نہیں دی جائے گی لیکن اب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کم از کم کچھ عرصے تک ایسے صارفین کے ساتھ کچھ بھی نہیں کیا جائے گا۔

واٹس ایپ کا اپنے نئے بیان میں کہنا ہے کہ حکومتوں اور پرائیویسی ماہرین سے مشاورت کے بعد ہم نے طے کیا ہے کہ پالیسی قبول نہ کرنے والے صارفین کی فیچرز تک رسائی محدود نہیں کریں گے۔

کمپنی نے بتایا کہ فی الحال ہمارا ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم ہماری جانب سے صارفین کو گاہے بگاہے نئی اپ ڈیٹ کے بارے میں یاد دلایا جائے گا۔

خیال رہے کہ واٹس ایپ نے رواں سال 4 جنوری کو اپنی نئی پالیسی کا اعلان کیا جس کے بعد صارفین نے پرائیویسی کی بنیاد پر تحفظات کا اظہار کیا اور اس طرح ایپلیکشن کی نئی پالیسی متنازع بن گئی، تاہم انتظامیہ نے وقتاً فوقتاً وضاحتی بیانات کا سلسلہ جاری رکھا اور صارفین کو آمادہ کرنے کی بھی کوششیں کیں۔

واٹس ایپ کا متنازع پرائیویسی پالیسی پر اہم بیان سامنے آگیا

لاکھوں صارفین واٹس ایپ کی پالیسی پر رضامند ہوگئے لیکن بڑی تعداد ایسے لوگوں کی رہی جنہوں نے متبال میسجنگ ایپس کے استعمال کو ترجیح دینا شروع کی جن میں ٹیلی گرام اور سنگل نمایاں ہیں۔

واٹس ایپ کی متنازع پالیسی کا نفاذ 15 مئی سے ہوا ہے۔ واٹس ایپ کی پرائیویسی متنازع بننے کے بعد ٹلی گرام اور سنگل ایپس کے ڈاؤن لوڈنگ کی شرح میں ریکارڈ اضافہ بھی دیکھا گیا۔ بہرکیف صارفین کی تمام تر مخالفت اور تحفظات کے باوجود بالاخرواٹس ایپ نے پالیسی کو دنیا بھر میں موجود صارفین پر لاگو کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں