The news is by your side.

Advertisement

بھولنا بیماری نہیں اچھی ذہانت کی نشانی، نئی تحقیق میں انکشاف

ہمارا دماغ ہزاروں لاکھوں خلیوں پر مشتمل ہے جس میں ان گنت واقعات کی یادوں کا خزانہ موجود ہے، کبھی انسان ان یادوں میں سے کچھ کو بھول بھی جاتا ہے جو پریشان کن نہیں

ہماری ایک نسل  پرائمری کی اردو کتاب میں شان الحق حقی کی ایک دلچسپ نظم ‘‘بھائی بھلکڑ’’ پڑھ کر بڑی ہوئی ہے ہمارے معاشرے میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو کئی باتیں بھول جاتے ہیں جنہیں لوگ مذاقاْ بھائی بھلکڑ یا کمزور دماغ کا قرار دیتے ہیں۔

لیکن نئی تحقیق نے اس بات کی نفی کردی ہے کہ بھولنا کوئی بیماری ہے۔

آئرلینڈ میں اس حوالے سے ہونے والی نئی تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ بھولنا کوئی بری علامت نہیں بلکہ یہ ممکنہ طور پر سیکھنے کی ایک قسم ہوسکتی ہے۔

ٹرینیٹی کالج میں ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مخصوص یادوں تک رسائی کے حوالے سے ہماری صلاحیت میں ماحولیاتی تبدیلیاں ماحولیاتی فیڈ بیک اور قابل پیشگوئی جیسے عناصر کے باعث آتی ہے۔

تحقیق کے مطابق بھول جانا دماغ کا ایک فعال فیچر ہوسکتا ہے جس سے وہ ماحول کے ساتھ جڑنے کے قابل ہوتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کچھ یادوں کو فراموش کرنا زیادہ لچکدار رویوں اور بہتر فیصلہ سازی کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے، اس طرح ہم کچھ یادوں کو بھولنا اور اہم باتوں کو یاد رکھنا سیکھتے ہیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یادیں انگرام سیلز نامی نیورونز میں محفوظ ہوتی ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ بھولنا سرکٹ ری ماڈلنگ کا نتیجہ ہوتا ہے جس کے ذریعے قابل رسائی انگرام سیلز ناقابل رسائی ہوجاتے ہیں اور یہ سیکھنے کے عمل کا ایک حصہ ہے تاکہ ہم ان یادوں تک ہی رسائی حاصل کرسکیں جو موجودہ ماحول سے مطابقت رکھتی ہوں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے نیچر ریویوز نیوروسائنسز میں شائع ہوئے ہیں۔

اس سے قبل 2017 میں ہونے والی ایک  طبی تحقیق میں بھی کہا گیا تھا کہ بہت زیادہ بھلکڑ ہونا قابل تشویش ہوسکتا ہے مگر کبھی کبھار بھولنا  اچھی ذہانت کی نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ آپ کی یاداشت کا نظام صحت مند اور درست طریقے سے کام کررہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں