The news is by your side.

Advertisement

کروناوائرس کے حوالے سے ہونے والی نئی تحقیق میں ہوشربا انکشافات

لندن: عالمی وبا کووڈ19 کے حوالے سے ہونے والی نئی تحقیق میں مزید اہم انکشافات ہوئے ہیں، مہلک وائرس خون کے گودے کے خلیات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق طبی جریدے جرنل سائنس امیونولوجی میں شائع تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کرونا بہت زیادہ بیمار ہونے والے مریضوں کے خون کے گودے (بلڈ میرو) کے خلیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق برطانیہ میں وائرس کے عروج کے دوران زیرعلاج رہنے والے 43 مریضوں کے مدافعتی نظام اور ردعمل کا جائزہ لیا گیا جس سے دریافت ہوا کہ ممکنہ طور پر کرونا ‘بلڈ میرو’ کے خلیات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

جبکہ کرونا سے متعدل حد تک بیمار ہونے والوں کے مدافعتی خلیات غیر معمولی سے معمولی ردعمل پر آجاتے ہیں لیکن سنگین بیمار شخص میں یہ تبدیلی نہیں آتی، ان مریضوں میں مونو سائیٹ(سیل) کے افعال درست نہیں ہوتے، تاہم علاج سے مونوسائیٹ کے اخراج کی روک تھام کرکے مدافعتی ردعمل کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مدافعتی نظام میں خرابیاں کرونا مریض کے آئی سی یو میں داخلے سے پہلے سے ہوتی ہیں، تو مریضوں کے اسپتال میں داخل ہوتے ہی امیون تھراپیز کا استعمال شروع کردینا چاہیے جو مریض کے لیے بہتر رہے گا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ایک تحقیقی رپورٹ میں دریافت کیا گیا تھا کہ کرونا وائرس مدافعتی نظام کے شدید ردعمل کا باعث بنتا ہے اور کچھ مریضوں میں ایسا بون میرو(ٹیشو) میں موجود مدافعتی خلیات میں ہوتا ہے۔

کروناوائرس ایک بار ناک یا منہ میں پہنچنے کے بعد ان خلیات کو نشانہ بناتا ہے جس میں ایک ریسیپٹر ایس 2 ہوتا ہے جو کہ گلے کے آخر میں اور نتھے کی گزر گاہ میں موجود ہوتے ہیں، جہاں سے وہ اپنا مزید راستہ بناتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں