اسلام آباد : پاکستان میں کرپٹو لین دین اور ڈیجیٹل اثاثوں کو سائبر حملوں سے محفوظ کرنے کے لیے نئے قواعد تیار کر لیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان نے کرپٹو لین دین، ڈیجیٹل اثاثوں اور ورچوئل سروسز کو سائبر خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے سائبر سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی گورننس کے مجوزہ نئے قواعد تیار کر لیے ہیں۔
ان قواعد کا مقصد کرپٹو مارکیٹ میں صارفین کے ڈیٹا، مالی معلومات اور ٹرانزیکشنز کو جدید ترین حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
مجوزہ قواعد کے تحت ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز (VASPs) کو خدمات فراہم کرنے کے لیے سخت تقاضے پورے کرنا ہوں گے، جن میں سائبر سیکیورٹی، ٹیکنالوجی گورننس اور رسک مینجمنٹ کے جامع اقدامات شامل ہیں۔
رجسٹرڈ اداروں کے لیے جامع سیکیورٹی پالیسیوں کا نفاذ اور باقاعدہ ٹیسٹنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔
ورچوئل سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اپنی سائبر سیکیورٹی پالیسی کا سالانہ جائزہ لینا ہوگا جبکہ یہ پالیسی الیکٹرانک سسٹمز اور کلائنٹ ڈیٹا کے مکمل تحفظ کو یقینی بنائے گی۔
قواعد کے مطابق اداروں کو انفارمیشن سیکیورٹی، سسٹم اور نیٹ ورک سیکیورٹی کو مضبوط بنانا ہوگا اور سائبر حملوں کے خلاف فعال اقدامات کرنا ہوں گے۔
کرپٹو اثاثوں کی سروسز کے لیے حفاظتی اقدامات اور آڈٹ کی باقاعدہ ضروریات بھی ریگولیشنز کا حصہ ہوں گی، جبکہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کو غیر مجاز رسائی اور لیکج سے بچانے کے لیے اضافی سیکیورٹی اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔
مزید برآں، کرپٹو اثاثوں تک رسائی کے دوران سسٹم فیل نہ ہونے کو یقینی بنانا بھی سروس پرووائیڈرز کی ذمہ داری ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی سائبر سیکیورٹی پالیسی شفافیت، ڈیٹا پروٹیکشن اور مالی جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گی، جس سے ملک میں کرپٹو لین دین مزید محفوظ اور قابلِ اعتماد بن جائے گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


