ٹی بی کی تشخیص کا آسان طریقہ دریافت، ہزاروں‌ بچوں کی زندگی محفوظ -
The news is by your side.

Advertisement

ٹی بی کی تشخیص کا آسان طریقہ دریافت، ہزاروں‌ بچوں کی زندگی محفوظ

ہاگ: نیدر  لینڈ کے تحقیقاتی ماہرین نے تپ دق (ٹی بی) کی تشخیص کا  آسان طریقہ دریافت کرلیا جس کی مدد سے ہر سال ہزاروں بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جاسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیندر لینڈ کے شہر ہاگ میں تب دق کی آگاہی دینے سے متعلق قائم ادارے اور تحقیقاتی ماہرین نے ٹی بی کی تشخیص کا نیا طریقہ دریافت کیا۔

محققین نے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو مطالعے میں شامل کیا جن کے تھوک (بلغم) کا ٹیسٹ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق نئے طریقہ تشخیص کے لیے کسی ٹیکنالوجی یا زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے ذریعے دور دراز دیہاتی علاقوں کے  بچوں کی بیماری کا بھی معلوم کیا جاسکے گا۔

ماہرین کے مطابق ہر سال تب دق بیماری کی وجہ سے دنیا بھر میں دو لاکھ چالیس ہزار سے زائد بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، اتنی زیادہ تعداد میں مرنے کی جہاں دیگر وجوہات ہیں وہیں بیماری کی تشخیص دیر سے ہونا ہے۔

مزید پڑھیں: تپ دق کے خلاف نئی ادویات جلد دستیاب ہوں گی

تحقیقاتی ماہرین کے مطابق 90 فیصد متاثرہ بچے دورانِ علاج دم توڑتے ہیں کیونکہ اُن کے مرض کی تشخیص آخری اسٹیج پر ہوتی ہے۔

ماہرین نے بیماری کی تشخیص کا جو طریقہ دریافت کیا اس کے تحت مریضوں کو اپنے بلغم کا ٹیسٹ کروانا ہوگا، تھوک کے نمونے کو مشین میں ڈالا جائے گا تو تپ دق کی نوعیت اور حساسیت سامنے آجائے گی۔

طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کا بلغم حاصل کرنے میں پریشانی کا سامنا ہوسکتا ہے، اس کے لیے ایسے والدین کو ایک روز قبل مریض کو اسپتال لانا ہوگا۔

کیٹی ویزنبیک کا کہنا ہے کہ ’اس ٹیسٹ کے ساتھ جہاں بیماری کا معلوم ہوگا وہیں ٹی بی کو روکنے میں بھی مدد مدد ملے گی، ایک وقت میں ہزاروں افراد کا آسانی سے ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ٹی بی کا شکار پانچواں بڑا ملک

لیبارٹری کنسلٹنٹ کے مطابق ٹیسٹ کے بعد 650 سے زائد ایسے بچوں کی جانب بچائی گئی جو دم توڑ سکتے تھے، یہ ایک بڑی دریافت ہے جو چھوٹی لیبارٹری میں بھی رکھی جاسکتی ہے‘۔

ماہرین کی جانب سے تشخیص کا طریقہ کار اور مشین رواں ماہ ہاگ میں ہونے والی کانفرنس میں پیش کی جائے گی۔

یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق 2017 میں 17 لاکھ سے زیادہ افراد تپ دق کی بیماری کے باعث دم توڑ گئے جن میں بچوں کی کثیر تعداد شامل تھی۔

واضح رہے کہ ٹی بی ایک ایسا مرض ہے جو پھیپھڑوں پر اثرانداز ہوتا ہے اور ہوا کے ذریعے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتا ہے۔

ٹی بی کیسے لاحق ہوسکتا ہے؟

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ غربت، غذائی کمی، گندے گھروں میں رہنا اور صفائی کا انتظام نہ ہونا ٹی بی سمیت بہت سی بیماریوں کا آسان شکار بنا دیتا ہے۔

اسی طرح پہلے سے مختلف امراض جیسے ایڈز یا ذیابیطس کا شکار ہونا، اور طویل عرصے تک تمباکو نوشی اور شراب نوشی کا استعمال بھی اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔


ٹی بی کی علامات

دو ہفتے سے زیادہ کھانسی یا بخار

بہت زیادہ تھکاوٹ

رات کو پسینہ آنا

بھوک اور وزن کی کمی

کھانسی میں خون آنا

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ علامات پر فوری توجہ دے کر ابتدائی مرحلے میں مرض کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں