The news is by your side.

Advertisement

برازیل میں کرونا کی نئی قسم نے طبی ماہرین کو چکرا کر رکھ دیا

برازیل میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم انتہائی خطرناک قرار دی جارہی ہے، جو کرونا سے صحتیاب ہونے والے افراد کو دوبارہ کوویڈ میں مبتلا کرسکتی ہے۔

حال ہی میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برازیل میں دریافت ہونے والی کرونا وائرس کی نئی قسم پرانی اقسام کے مقابلے میں زیادہ متعدی ہے۔

اس نئی تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ کورونا کی دیگر اقسام سے بیمار ہوکر صحتیاب ہونے والے مریضوں کو حاصل ہونے والی مدافعت پی 1 کا مقابلہ نہیں کرپاتی۔

محققین نے وائرس کی دیگر اقسام کو شکست دینے والے افراد کے خون کے پلازما میں موجود اینٹی باڈیز کی آزمائش اس نئی قسم کے خلاف کی۔

آن لائن پری پرنٹ سرور میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ پلازما میں موجود اینٹی باڈیز کی وائرس ناکارہ بنانے والی صلاحیت پی 1 کے خلاف 6 گنا کم ہوگی۔

محققین نے بتایا کہ نئی اقسام کے خلاف وائرس کو ناکارہ بنانے واللی اینٹی باڈیز کی کم صلاحیت اور جزوی مدافعت سے دوبارہ بیماری کا خطرہ ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں بھی ہوسکتا ہے۔

برطانیہ اور برازیل کے ماہرین کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ پی 1 نامی کرونا وائرس کی یہ نئی قسم 2.2 گنا زیادہ متعدی اور کووڈ سے پہلے بیمار ہونے والے افراد کی مدافعت کو 61 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔

یہ تحقیق ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی اور اسے پری پرنٹ سرور پر جاری کیا گیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پی 1 کے نتیجے میں کرونا وائرس کے کیسز میں برازیل کے شہر میناوس میں اضافہ ہوا اور وہاں 2020 کے اختتام میں وبا کی دوسری لہر سامنے آئی۔

یہ دوسری لہر اس لیے بھی طبی ماہرین کے لیے پریشان کن تھی کیونکہ پہلی لہر کے دوران وہاں بہت زیادہ کیسز کے بعد اجتماعی مدافعت (ہرڈ امیونٹی) کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔

تحقیق کے دوران نومبر 2020 سے جنوری 2021 کے دوران اس شہر میں کرونا وائرس سے بیمار ہونے والے افراد کے نمونوں سے وائرس کے جینیاتی سیکونس بنائے گئے۔

محققین نے دریافت کیا کہ اس قسم کے نمونوں کی شرح 7 ہفتوں کے دوران صفر سے 87 فیصد تک بڑھ گئی۔

انہوں نے اس نئی قسم میں 17 میوٹیشنز کو شناخت کیا جن میں سے 10 اسپائیک پروٹین کی سطح پر ہوئیں، جس کو یہ وائرس انسانی خلیات میں داخلے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اسپائیک پروٹین میں ہونے والی 3 میوٹیشنز سے اس نئی قسم کو انسانی خلیات کو مؤثر طریقے سے جکڑنے میں مدد ملی، جن میں سے ایک میوٹیشن این 501 وائے برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں دریافت اقسام میں بھی دیکھی گئی تھی۔

ماہرین نے ان تبدیلیوں کو مدنظر رکھ کر جانچ پڑتال کی کہ اس سے وائرس کی انسانوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔

انہوں نے ڈیٹا سے ماڈلز تیار کیے جن سے ثابت ہوا کہ کرونا وائرس کی اوریجنل قسم کے ساتھ ساتھ دیگر اقسام کے مقابلے میں 1.4 سے 2.2 گنا زیادہ متعدی ہے۔

اسی طرح یہ قسم پرانی اقسام سے متاثر ہونے والے افراد میں پیدا ہونے والی امیونٹی کی شرح کو بھی 25 سے 65 فیصد تک کم کرسکتی ہے، جس سے لوگوں میں دوسری بار کووڈ کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ پی 1 میں کافی کچھ تبدیل ہوا ہے جو کہ باعث تشویش ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں