The news is by your side.

Advertisement

کیا کورونا کی نئی قسم برطانیہ سے دریافت نہیں ہوئی؟ تحقیق میں اہم انکشاف

برلن : برطانیہ میں تباہی کے بعد دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلانے والی کورونا وائرس کی دوسری قسم سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ نئی وبا برطانیہ نہیں بلکہ جرمنی میں پہلے سے موجود تھی۔

برطانیہ میں رواں ماہ کے شروع میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے بارے خیال کیا جارہا ہے کہ وہ رواں سال نومبر سے ہی جرمنی میں موجود تھی۔

اس حوالے سے جرمنی کے مقامی روزنامہ ڈی ویلٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہنوور میڈیکل اسکول کے محققین نے وائرس کی اس نئی قسم کی ایک عمر رسیدہ مریض کے نمونوں میں نشاندہی کی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ماہ نومبر کے لگ بھگ اس وائرس کا شکار ہونے والا یہ شخص بعد ازاں دوران علاج چل بسا تھا۔

اس کے علاوہ جنوب مغربی ریاست باڈن ورٹمبرگ کی وزارت صحت کے مطابق جرمنی میں جمعرات کے روز وائرس کی اس نئی قسم کا پہلا کیس ایک خاتون مریض میں رپورٹ ہوا ہے جو برطانیہ سے واپس آئی تھی۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کے باعث انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں رہنے والے لاکھوں افراد کے لیے چوتھے درجے کی سخت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں، متعدد یورپی ممالک نے برطانیہ کے ساتھ سفری پابندیاں بھی عائد کردی ہیں۔

کورونا وائرس کی یہ نئی قسم اب پوری دنیا میں تشویش کا باعث بنتی جارہی ہے جس کے باعث برطانیہ کے مختلف حصوں میں وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔

مزید پڑھیں : کورونا وائرس کی نئی قسم کیا ہے؟ یہ کیسے پھیلتی ہے؟َ جانیے

طبی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کورونا کی ہیئت تبدیل ہو رہی ہے جو وائرس کے سب سے اہم حصے کو متاثر کر رہی ہے، ان میں سے کچھ تغیرات کو پہلے ہی لیب میں دکھایا جاچکا ہے جو خلیوں کو متاثر کرکے وائرس کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں، ان سب چیزوں سے مل کر ایک ایسا وائرس بنتا ہے جو آسانی سے پھیل سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں