The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کے مقام آغاز سے متعلق امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹ

واشنگٹن: امریکی خفیہ اداروں نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ نئے کرونا وائرس کے مقامِ آغاز کی کبھی نشان دہی نہ ہو سکے۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کو امریکی انٹیلیجنس اداروں نے کرونا وائرس کے جانوروں سے انسانوں میں منتقلی یا لیبارٹری سے اخراج کے بارے میں ایک نیا اور تفصیلی مطالعہ جاری کیا ہے۔

امریکا کے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ہم کبھی بھی کرونا وائرس کے مقامِ آغاز کی نشان دہی نہ کر سکیں، کیوں کہ کرونا وائرس کی وبا کا قدرتی ماخذ اور لیبارٹری سے وائرس کا لیک ہونا دونوں قابل فہم مفروضے ہیں۔

اس رپورٹ میں ان تجاویز کو بھی مسترد کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس ایک حیاتیاتی ہتھیار (بائیو ویپن) کے طور پر سامنے آیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نظریے کو حامیوں کا ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی تک براہ راست رسائی نہیں تھی، انھوں نے غلط معلومات پھیلائیں۔

چین نے امریکا کی اس رپورٹ پر تنقید کی ہے، واشنگٹن میں امریکا کے لیے چین کے سفیر لیو پینگیو نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کا کرونا وائرس کے مقامِ آغاز کو معلوم کرنے کے لیے سائنس دانوں کی بجائے انٹیلیجنس اداروں سے کام لینا ایک مکمل سیاسی مذاق ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سائنسی بنیادوں پر مقامِ آغاز کو معلوم کرنے کے مطالعے کو متاثر کرے گا اور وائرس کے ماخذ کو معلوم کرنے کے لیے عالمی کوششوں میں رکاوٹ بنے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں