منگل, مارچ 17, 2026
اشتہار

امریکی جج نے ٹرمپ کی روکی گئی 16 ارب ڈالر کے نیویارک ٹنل منصوبے کی فنڈنگ بحال کر دی

اشتہار

حیرت انگیز

نیویارک/واشنگٹن (07 فروری 2026): امریکی عدالت نے صدر ٹرمپ کی جانب سے روکی گئی نیویارک کے ٹنل منصوبے کی فنڈنگ بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

روئٹرز کے مطابق نیویارک کے ایک وفاقی جج نے جمعے کے روز نیویارک اور نیوجرسی میں اہم ریلوے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے مختص 16 ارب ڈالر کے منصوبے کی فنڈنگ بحال کر دی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے روک دی تھی۔

اس گیٹ وے منصوبے کے تحت مین ہٹن اور نیوجرسی کے درمیان مسافر ٹرینوں کے لیے ایک نئی سرنگ تعمیر کی جائے گی، جب کہ 100 سال پرانی اس سرنگ کی مرمت بھی کی جائے گی جسے روزانہ 2 لاکھ سے زائد مسافر اور 425 ٹرینیں استعمال کرتی ہیں۔

موجودہ ہڈسن سرنگ 2012 میں سمندری طوفان سینڈی کے باعث شدید متاثر ہوئی تھی اور اسے بار بار ہنگامی مرمت کی ضرورت پڑتی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی مسافر ریل لائن پر سفر میں خلل پڑتا ہے۔

امریکا کو جواب، کینیڈا اور فرانس نے گرین لینڈ میں قونصل خانے کھول لیے

مین ہٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج جینیٹ وارگاس نے یہ عبوری فیصلہ اس وقت سنایا جب نیویارک اور نیوجرسی نے کہا کہ فنڈز کی کمی کے باعث تعمیراتی کام رکنے والا ہے۔ وارگاس نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فنڈز منجمد کرنے کا حکم من مانی کارروائی تھا، جس میں قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد منصوبے پر کام دوبارہ شروع ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے، عدالت نے قرار دیا کہ فنڈنگ کی بحالی عوامی مفاد میں ہے، اس منصوبے سے شہر کے ٹرانسپورٹ نظام میں بہتری آئے گی۔

یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منصوبے کی فنڈنگ بحال کرنے کی مشروط پیشکش کی تھی، اور کہا تھا کہ اگر ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر واشنگٹن ایئرپورٹ اور نیویارک کے سب وے کے نام ٹرمپ کے نام پر رکھنے کی حمایت کریں تو سولہ ارب ڈالر کے ہڈسن ریور ٹنل منصوبے کی فنڈنگ بحال کر دی جائے گی۔ تاہم سینیٹر چک شومر نے پیشکش مسترد کر دی تھی اور کہا تھا کہ انھیں ان مقامات کے نام تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یکم اکتوبر سے اب تک اس منصوبے کے لیے 205 ملین ڈالر کی ادائیگیاں روک رکھی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے مطالبہ کیا تھا کہ واشنگٹن ڈلس ایئرپورٹ اور نیویارک کے پین اسٹیشن کا نام ان کے نام پر رکھا جائے، تب جا کر فنڈز بحال کیے جائیں گے، جس پر ڈیموکریٹس کی جانب سے سخت تنقید کی گئی۔

ٹرمپ نے جمعے کے روز صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے نہ تو ڈلس ایئرپورٹ اور نہ ہی پین اسٹیشن کا نام تبدیل کرنے کی کوئی تجویز دی ہے۔ انھوں نے جج وارگاس کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں