The news is by your side.

’سوٹ کیس بچوں‘ کی والدہ کون؟ تفتیش نیوزی لینڈ پولیس کو ایشیا تک لے آئی

آکلینڈ: نیوزی لینڈ میں پولیس نے نیلامی میں خریدے گئے سوٹ کیس سے برآمد 2 بچوں کے خاندان کی ایک خاتون کو تلاش کر لیا ہے، جو ممکنہ طور پر بچوں کی ماں ہو سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی آکلینڈ میں سوٹ کیس میں ملنے والے بچے 4 سال قبل مر چکے تھے، ان کی باقیات تب سامنے آئیں جب ایک اسٹوریج لاکر کی جانب سے لاوارث سامان کی نیلامی کی گئی۔

کیس کی تفتیش پولیس حکام کو ایشیا تک لے گئی، حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والے بچوں کی ماں جنوبی کوریا میں ہو سکتی ہے۔

سیئول پولیس کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ میں سوٹ کیسوں سے ملنے والی دو بچوں کے خاندان کی ایک خاتون کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنوبی کوریا میں ہے۔

ایک پولیس افسر نے پیر کو روئٹرز کو بتایا کہ خاتون، ایک کوریائی نژاد نیوزی لینڈر ہے، جو 2018 میں جنوبی کوریا پہنچی تھی اور اس کے بعد سے ان کی روانگی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

نیلامی میں خریدے گئے سوٹ کیس کھول کر گھر والوں پر دہشت طاری ہو گئی

یاد رہے کہ 11 اگست کو آکلینڈ کے ایک خاندان نے اسٹوریج کی نیلامی میں 2 الگ الگ لیکن ایک سائز کے سوٹ کیس خریدے تھے، جن سے دو بچوں کی باقیات برآمد ہو گئی تھیں، رپورٹس کے مطابق جو سامان خریدا گیا تھا اس میں ‘پرام، کھلونے اور واکر’ شامل تھے۔

نیوزی لینڈ پولیس نے کہا ہے کہ وہ قتل کی تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے، جاسوس انسپکٹر توفیلاؤ فامانویا وائلوا نے جمعرات کو کہا کہ بچوں کی عمر پانچ سے دس سال کے درمیان ہے، ان کی صنف کے بارے میں ابھی معلوم نہیں ہو سکا ہے، ڈی این اے کی تحقیق جاری ہے۔

انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ بچوں کے خاندان کے کچھ رشتہ دار نیوزی لینڈ میں بھی موجود ہیں، تاہم ابھی ان کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

پولیس کے مطابق ممکنہ طور پر جنوبی کوریا میں موجود مذکورہ خاتون کی عمر اور پرانے پتے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان بچوں کی والدہ ہیں، تاہم پولیس کے لیے یہ تصدیق کرنا باقی ہے کہ کیا یہ خاتون ابھی بھی جنوبی کوریا میں موجود ہیں۔

مذکورہ خاتون جنوبی کوریا میں پیدا ہوئی تھیں تاہم وہ نیوزی لینڈ کی شہری ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں