The news is by your side.

Advertisement

نیوزی لینڈ دہشت گردی، مساجد بند، مسلمانوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت

کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کی انتظامیہ نے تمام مساجد کو فوری طور پر بند کراتے ہوئے مسلمانوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کردی۔

انتظامیہ کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا کہ نیوزی لینڈ کی تمام مساجد تاحکم ثانی بند رہیں گی اور جب تک اجازت نہیں دی جاتی وہاں نماز کی باجماعت ادائیگی پر پابندی ہوگی۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز عقیل سید کے مطابق انتظامیہ نے مسلمانوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلاجواز گھروں سے باہر نہیں نکلیں اور آئندہ دو تین روز تک احتیاط کریں۔ نیوزی لینڈ کی انتظامیہ نے مساجد کے  منتظمین کو سیکیورٹی کے انتظامات خود ہی کرنے کا مشورہ بھی دیا۔

برطانیہ/پرچم سرنگوں

نیوزی لینڈمساجد پر حملے کے بعد  برطانوی شاہی محل، وزیراعظم ہاؤس اور وزارتِ داخلہ کی عمارتوں پر برطانوی پرچم سرنگوں کردیے گئے۔

عالمی رہنماؤں کا اظہار مذمت

عالمی رہنماؤں نے کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مساجد میں خطرناک قتل عام پر میں نیوزی لینڈ کے عوام کے لیے نیک خواہشات اور متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے، مسلمانوں کی شہادت پر مختلف ممالک میں مظاہرے

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 49 افراد کو بے حسی سے قتل کردیا گیا جبکہ متعدد بری طرح زخمی ہیں، امریکا مشکل کی اس گھڑی میں نیوزی لینڈ کے ساتھ ہے اور ہم اُن کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی کرائسٹ چرچ دہشت گرد حملے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے تعزیت کی۔

برطانوی وزیراعظم تھریسامے کا کہنا تھا کہ کرائسٹ چرچ میں ہونے والی ہولناک دہشت گردی کی مذمت اور متاثرین سے دلی تعزیت کرتی ہوں، میری تمام نیک تمنائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

لندن کے میئر صادق خان نے تمام مساجد کی سیکیورٹی بڑھاتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری کو وہاں تعینات کردیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ میٹرو پولیٹن پولیس مساجد کے باہر واضح طور پر نظر آئے گی۔ انہوں نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لندن دہشت گرد حملے کا سامنے کرنے والے کرائسٹ چرچ کے عوام کے بشانہ بشانہ کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ دہشت گردی، پانچ پاکستانی لاپتہ

اسے بھی پڑھیں: کرائسٹ چرج حملہ مسلمان مخالف کارروائی ہے، ترک صدر اردوگان

آسڑیلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد نے کیا، اس کے ساتھ انہوں نے حملہ آور کی آسٹریلوی شہری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی حکام اس حوالے تحقیقات کررہے ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس نے مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلخانہ اور نیوزی لینڈ کے عوام سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس خطرناک دہشت گرد حملے میں پرامن انداز میں نماز پڑھتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، اگر لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے تو یہ ہم سب پر حملہ ہے۔

خیال رہے کہ حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ کا تعلق آسٹریلیا سے ہے جو کچھ سال قبل تک نیوساﺅتھ ویلز کے شہر گرافٹن میں ایک جم میں ٹرینر کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔

نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالےسے مغربی میڈیا کا دہرا معیار بھی سامنے آیا، مشہور صحافتی اداروں نے مسجد پر ہونے والے حملے کو دہشت گرد لکھنے سے گریز کیا اور سفید فام شخص کو بھی کسی نے دہشت گرد نہیں لکھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں