پیر, مئی 18, 2026
اشتہار

جب سیاسی سرگرمیوں اور انتظامی امور پر "نکتہ چینی” کو خلافِ قانون قرار دیا گیا

اشتہار

حیرت انگیز

۱۸۳۷ میں اردو صحافت کا آغاز ہوا۔ اس سال بنارس سے ’’خیر خواہِ ہند‘‘ اور دہلی سے ’’سید الاخبار‘‘ جاری ہوئے۔ ایک سال بعد مولوی باقر حسین نے دہلی سے ’اردو اخبار‘ جاری کیا۔ اس اخبار کی نوعیت ادبی تھی۔ ان اخباروں کے علاوہ دہلی سے بعض دوسرے اخبار بھی شائع ہوئے۔ ان میں مغلیہ خاندان کے آخری بادشاہ ابو ظفر بہادر شاہ کا ’اردو اخبار‘ بھی تھا۔ ۱۸۵۰ء میں ہرسکھ رائے نے لاہور سے ’’کوہ نور‘‘ جاری ہوا۔ اسی سال گوجرانوالہ سے ’’گلزار پنجاب‘‘ اور سیالکوٹ سے ’’خورشید عالم‘‘ جاری ہوئے۔

اس زمانہ میں طباعت اور صحافت میں لکھنؤ نے ایک نمایاں حیثیت اختیار کرلی تھی۔ ۱۸۵۰ء میں وہاں تیرہ چھاپہ خانہ تھے۔ دہلی کے ’’صادق الاخبار‘‘ (فارسی) کے اقتباسات کو ابو ظفر بہادر شاہ کے مقدمہ میں پیش کیا گیا تھا۔ علمی اور تاریخی مضمونوں کے لیے بابو گووند رگھو ناتھ کا ’آفتاب ہند‘ (بنارس) اس زمانہ میں بہت مقبول تھا۔ ۱۸۵۷ء سے پہلے ہندوستان میں انگریزی، بنگالی، اردو، گجراتی اور فارسی اخباروں کی تعداد بہت کافی تھی۔

۱۸۵۷ء میں اخباروں پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔ نئے پریس ایکٹ کی رو سے حکومت اپنے پورے اختیارات استعمال کرنے لگی۔ ان پابندیوں کا ہندوستانی اخباروں پر بہت برا اثر پڑا۔ لیکن بیس سال کے بعد ہندوستانی صحافت ازسرنو ترقی کرچکی تھی۔ ۱۸۷۸ء میں پریس پر پابندیاں لگاتے وقت ہندوستان کی صحافت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انگریزی اور دیسی زبانوں کے اخباروں میں امتیاز کیا گیا۔ سولہویں صدی کے وسط میں پرتگیزوں نے گوا میں دو پریس لگوائے تھے۔ ایک پرتگیزی نے تامل اور ملیالم رسم الخط کے ٹائپ تیار کر لیے۔ چنانچہ ۱۵۵۷ء میں ان میں ایک زبان کی پہلی کتاب ٹائپ میں چھاپی گئی۔ جس زمانہ میں شمالی ہندوستان والے پریس کے تصور سے ناآشنا تھے۔ تب جنوبی ہندوستان کے کئی شہروں میں پرتگیزوں کے ذریعہ دیسی زبانوں کے پریس قائم ہوچکے تھے۔ یہ بات معلوم کرنا باقی ہے کہ اس زمانہ میں پرتگیزی یا کسی دوسری زبان میں کوئی اخبار بھی نکلتا تھا یا نہیں۔ جیمز آگسٹس ہکی نے ہندوستان میں انگریزی زبان کا پہلا اخبار ۱۷۸۰ء میں کلکتہ سے جاری کیا۔ ہندوستان میں چونکہ صحافت کا آغاز حکومت کی مدح یا قصیدہ خوانی سے نہیں ہوا تھا۔ اس لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکمران جماعت کو شروع ہی سے اخباروں نے متعلق بدگمانی ہوگئی۔ اٹھارہویں صدی میں ہندوستان کے تمام اخبار انگریزی زبان میں شائع ہوتے تھے۔ ان اخباروں کے انگریز ایڈیٹر ایسٹ انڈیا کمپنی کی پالیسی پر سخت نکتہ چینی کرتے۔ اس نکتہ چینی کے پیش نظر ۱۷۹۴ء میں سر جان شور کے نزدیک ’’کلکتہ کے اخباروں نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ اس کا جاری رہنا بہت خطرناک ہوگا۔‘‘ پانچ سال بعد اخباری نکتہ چینی نے ولزلی سے یہ کہلوایا کہ ’’میں بہت جلد ایڈیٹروں کی پوری جماعت کے لیے ایک قانون مرتب کرنے والا ہوں۔‘‘ ولزی نے مرتب کردہ پریس ایکٹ کی رو سے جب تک کوئی مقرر کردہ افسر اخبار کا معائنہ نہیں کرلیا تھا۔ اس وقت تک اخبار شائع نہیں ہوسکتا تھا۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو انگلستان بھیج دیا جاتا تھا۔ اس قانون کے ساتھ ہی کلکتہ میں سنسر کا محکمہ بھی قائم ہوگیا۔ اس احتساب نے کمپنی کے مالی معاملات سے متعلق خبروں کی اشاعت ممنوع کر دی۔ جہازوں کی آمدورفت، کمپنی کی سیاسی سرگرمیوں اور افسروں کے انتظامی امور سے متعلق خبریں شائع کرنا خلافِ قانون قرار دیا گیا۔ ۱۸۰۱ء میں کلکتہ سے ’’گورنمنٹ گزٹ‘‘ جاری کیا گیا۔ اس گزٹ کے اجراء کا مقصد ان اخباروں کے اثر کو کم کرنا تھا جو پریس ایکٹ اور سنسر کی عائد کردہ پابندیوں پر عمل نہیں کرتے تھے۔ ۱۸۱۱ء میں اخباروں پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔ لارڈ ہیسٹنگز کے عہدِ حکومت میں اخباروں کو نسبتاً آزادی حاصل تھی۔ اس کے حکم سے سنسر شپ کا محکمہ توڑ دیا گیا۔ ۱۸۲۳ء میں جو قانون نافذ کیا گیا اس کی رو سے حکومت سے لائسنس حاصل کیے بغیر کوئی شخص اخبار، اشتہار یا کتاب نہیں چھاپ سکتا تھا۔ چھاپہ خانہ کے لیے بھی لائسنس حاصل کرنا ضروری ہوگیا۔

(باری علیگ کے مضمون "کمپنی کے عہد میں ادب اور صحافت” سے اقتباس)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں