The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں کرونا ویکسین کے غلط استعمال کا انکشاف

واشنگٹن: امریکی ریاست نیویارک میں کرونا ویکسین کے غلط استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے جس پر پولیس نے تفتیش شروع کردی جبکہ گورنر نے بھی نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیویارک کی پولیس نے کرونا ویکسین کے ناجائز طریقے سے حصول اور اسے شہریوں پر استعمال کرنے کے انکشاف کے بعد طبی مرکز کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا۔

رپورٹ کے مطابق جس طبی مرکز نے شہریوں کو کرونا ویکسین لگائی اُسے فراہمی نہیں کی گئی تھی۔

محکمہ صحت کے ترجمان نے کرونا ویکسین کے غلط استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ نیویارک شہر میں قائم ’پار کیئر کمیونٹی ہیلتھ نیٹ ورک‘ کے طبی مرکز نے غیر قانونی درخواست فارم کے ذریعے ویکسین حاصل کی۔

مزید پڑھیں: کرونا ویکسین لگوانے والی نرس کو ایک ہفتے میں ہی وائرس کا شکار

ترجمان کے مطابق ’ویکسین پہلے بنیاد طبی عملے، پھر بزرگوں کے بہبودی مراکز میں مقیم افراد اور عملے کو لگنا تھی مگر کیئر سینٹر نے اسے غیرقانونی طریقے سے حاصل کر کے شہریوں کو لگانا شروع کردیا تھا‘۔

طبی مرکز کے نمائندے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طبی مرکز کو ریاست کی جانب سے ویکسین کی 2 ہزار 300 خوراکیں موصول ہوئیں تھیں، جن میں سے 850، ریاستی صحت حکام کی ہدایات کی روشنی میں پہلے ہی لوگوں کو لگائی جا چکی ہیں۔

ریاست کے گورنر ریو کوومو نے کہا کہ ’ویکسین لگانے کے عمل میں کسی قسم کی دھوکا دہی برداشت نہیں کی جائے گی، غلط بیانی کر کے ویکسین حاصل کرنے اور اسے شہریوں پر استعمال کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: کرونا ویکسینیشن کے حوالے سے اہم اعلان

اُن کا کہنا تھا کہ ’حکومت جلد ہی ایک نوٹی فکیشن جاری کرے گی جس کے مطابق غیرقانونی طریقے سے ویکسین حاصل کرنے اور بنا اجازت شہریوں کو لگانے والوں پر دس لاکھ ڈالرز تک جرمانہ کیا جائے گا جبکہ اس عمل میں ملوث ڈاکٹرز اور نرسوں کے لائسنس منسوخ کیے جائے گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں