The news is by your side.

Advertisement

او آئی سی نےبھارت کے5اگست کےغیرقانونی اقدامات کومستردکیا، دفترخارجہ

اسلام آباد: پاکستان کا کہنا ہے کہ او آئی سی نے بھارت کےپانچ اگست کے غیر قانونی اقدامات کومسترد کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم نے بھارت کےپانچ اگست دوہزار انیس کےغیرقانونی اقدامات کومستردکیا، اجلاس میں مسئلہ کشمیر کیلئے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا، او آئی سی وزرائےخارجہ اجلاس نے کشمیرپر متفقہ قرارداد منظور کی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق قرارداد میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ بھارت جموں وکشمیر تنظیم نو آرڈر،ڈومیسائل سرٹیفکیٹ رولز، لینگویج بل سمیت تمام غیرقانونی اقدامات واپس لے۔گذشتہ روز نائجر کے دارالحکومت نیامی میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا 47واں اجلاس ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  انتہا پسندی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، او آئی سی

قرارداد کے متن کے مطابق کشمیر تنازع 7 سے زائد دہائیوں سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے، بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات مسترد کرتے ہیں، بھارتی اقدامات سلامتی کونسل کی قراردادوں کی براہ راست توہین ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ بھارتی اقدامات کا مقصد خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے، بھارتی اقدامات استصواب رائے سمیت کشمیریوں کے دیگر حقوق چھیننا ہے،بھارتی رویہ، بالا کوٹ سانحہ، ایل او سی، ورکنگ باؤنڈری پر جارحیت کی مذمت کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کا کردار ایل او سی پر بڑھائے، بھارت تمام تنازعات عالمی قانون، معاہدات کے مطابق طے کرے۔عالمی برادری سے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ’بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں صورتحال کی نگرانی کرے اور یواین، عالمی برادری پاک بھارت مذاکرات کی جلد بحالی کے لیے کردار ادا کرے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ خصوصی ایلچی کا تقرر کریں۔‘

نمائندہ خصوصی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرے، نمائندہ خصوصی کشمیر صورت حال سے یواین سیکریٹری جنرل کو آگاہ کرے۔

قرارداد میں او آئی سی سیکریٹری جنرل سے کشمیر میں بھارتی مظالم پر رپورٹ تیار کرنے کی درخواست کی گئی اور کہا گیا کہ رپورٹ وزرا خارجہ کونسل کے آٗئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں