The news is by your side.

Advertisement

نکاراگوا:حکومت مخالف مظاہرے‘لائیو رپورٹنگ کرنے والا صحافی ہلاک

ماناگوا : نکارا گوا میں گذشتہ ایک ہفتے سے حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوام کی جانب سے شدید احتجاج جاری ہے، مظاہروں کی لائیو رپورٹنگ کرنے والا صحافی گولی کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا.

تفصیلات کے مطابق جمہوریہ نکارا گوا میں حالیہ دنوں موجودہ حکومت کے خلاف ہونے والے عوامی مظاہروں میں لائیو رپورٹنگ کرتے ہوئے حکومت کے حامیوں اور پولیس کی گولیوں کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا۔

انجیل گاہونا کیبیرین کوسٹ ٹاؤن میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر مظاہروں کے دوران ٹوٹنے والی اے ٹی ایم مشین کی صورتحال دکھا رہے کہ اچانک گولی چلی۔ جس کے بعد انہیں زمین پر گرتے ہوئے دکھا جاسکتا ہے۔

غٖیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صحافی انجیل گوہونا کو گولی لگنے کے بعد ارگرد موجود لوگ ان کا نام لے کر چیختے رہے اور انہیں اپنی مدد آپ کے تحت اسپتال لے گئے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ صحافی پر دوران رپوٹنگ گولی کس نے چلائی۔ تاہم مظاہرے میں موجود مقامی اخبارات کے صحافیوں نے کہا ہے کہ احتجاج کے دوران حکومت کے حامی اور پولیس اہلکار ہی مسلح تھے۔

نکارا گوا میں موجود عالمی فلاحی ادارے ریڈ کراس کے اہلکاروں کا مؤقف ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوارن اب تک 10 سے زائد شہریوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔

حکومت کی جانب سے ملازمین کی کی تنخواہوں سے پینشن کی مد میں اضافی رقم کی کٹوتی اور مراعات میں کمی کے خلاف عوام نے گذشتہ ہفتے حکومتی پالیسی کے خلاف پرامن مظاہروں کا آغاز کیا۔

حکومت مخالف مظاہروں میں بدھ کے روز اس وقت شدت آئی جب نکارا گوا کے صدر اورٹیگا کے حامی اور وفاقی پولیس نے پر امن مظاہرین پر گولیاں چلائیں، تین روز میں فائرنگ کی زد میں آکر صحافی سمیت 10 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

امریکی میڈیا کے مطابق نکارا گوا کے صدر اورٹیگا نے حکومت مخلاف تحریکوں کے سربراہ کو مذاکرات کی پیش کش کی، تاہم انہوں نے ’پہلے پولیس کا تشدد رکوایا جائے‘ کہہ کر مذاکرات کرنے سے انکار کردیا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ نکارا گوا کے صدر اورٹیگا کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے سرکاری عمارت کو نقصان پہنچانے کے بعد آگ لگانے کی کوشش بھی کی، حکومت نے کئی شہروں میں مظاہروں مزید شدت آنے کے پیش نظر فوجی دستے تعینات کردیئے۔

ماناگوا میں واقع یونیورسٹی کے طلباء نے کیمپس کو رکاوٹیں لگاکر بند کردیا، پولی ٹیکنک یونیورسٹی میں تقریباً 100 افراد مظاہروں کے دوران زخمی ہوئے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں