کراچی: این آئی سی وی ڈی کراچی میں دل میں پیوست گولی نکال کر بلوچستان کے 12 سالہ بچے کی جان بچا لی گئی۔
قو می ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کراچی کے ماہرین نے ایک انتہائی پیچیدہ اور جان بچانے والی قلبی سرجری کے ذریعے بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والے 12 سالہ بچے کی جان بچا لی، جس کے دل میں گولی پیوست تھی اور اسے انتہائی تشویش ناک حالت میں کراچی منتقل کیا گیا تھا۔
بچہ خضدار شہر میں حادثاتی گولی لگنے کے واقعے میں زخمی ہوا، جس کے بعد اسے فوری طور پر مقامی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ تاہم، انجری کی غیر معمولی نوعیت اور حالت کی سنگینی کے باعث اسے فوری اور انتہائی تخصصی قلبی علاج کی ضرورت تھی۔ بعد ازاں بچے کو کراچی منتقل کیا گیا، جہاں اسے مختلف اسپتالوں میں لے جایا گیا، مگر اس کی حالت کی پیچیدگی کے پیش نظر فوری خصوصی قلبی علاج کی ضرورت برقرار رہی۔
بالآخر بچے کو این آئی سی وی ڈی کراچی کے شعبہ اطفال ایمرجنسی پہنچایا گیا، جہاں ماہر طبی ٹیم نے فوری طور پر اس کا طبی معائنہ اور علاج شروع کیا۔ ہنگامی بنیادوں پر کی جانے والی ایکو کارڈیوگرافی کے ذریعے بچے کے دل میں گولی کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، صورت حال کی انتہائی سنگینی اور بچے کی جان کو لاحق خطرے کے پیش نظر اسے چند ہی منٹوں میں ہنگامی آپریشن کے لیے آپریشن تھیٹر منتقل کر دیا گیا۔
این آئی سی ایچ کے نیونیٹل آئی سی یو میں آتشزدگی کے سنگین خطرات کا انکشاف
یہ انتہائی پیچیدہ اور حساس قلبی سرجری ماہر پیڈیاٹرک کارڈیک سرجن پروفیسر سہیل خان بنگش کی سربراہی میں انجام دی گئی، جب کہ پیڈیاٹرک کارڈیک سرجن ڈاکٹر سعد بدر بھی سرجیکل ٹیم میں شامل تھے۔ کثیر شعبہ جاتی طبی ٹیم میں پیڈیاٹرک انٹروینشنلسٹ ڈاکٹر عبد الستار شیخ اور ماہرِ بے ہوشی پروفیسر امین خواجہ سمیت دیگر ماہر ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملے نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
پروفیسر سہیل خان بنگش کا کہنا تھا کہ بچے کو انتہائی تشویش ناک حالت میں این آئی سی وی ڈی کراچی لایا گیا تھا، اور گولی اس کے دل میں پیوست تھی۔ فوری طبی معائنے کے بعد ہم نے بغیر کسی تاخیر کے ہنگامی سرجری کرنے کا فیصلہ کیا، یہ انتہائی پیچیدہ اور حساس آپریشن تھا۔ تاہم پوری ٹیم کی باہمی اور مربوط کاوشوں کے نتیجے میں گولی کامیابی سے نکال دی گئی اور اب بچہ تیزی سے صحت یاب ہو رہا ہے۔
تقریباً 2 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس نہایت پیچیدہ سرجری کے دوران بچے کے دل سے گولی کامیابی کے ساتھ نکال دی گئی۔ کامیاب آپریشن کے بعد بچے کو انتہائی نگہداشت کے شعبے منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ ماہر طبی ٹیم کی مسلسل نگرانی میں تیزی سے صحت یاب ہو رہا ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی پروفیسر طاہر صغیر نے اس غیر معمولی اور جان بچانے والے آپریشن کی کامیابی پر سرجیکل اور معاون طبی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ مہارت، بروقت فیصلہ سازی اور ان تھک کاوشوں کو سراہا۔
انھوں نے کہا کہ قومی ادارہ برائے امراضِ قلب سندھ سمیت ملک بھر سے آنے والے مریضوں کو بلاامتیاز جدید اور معیاری امراضِ قلب کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ کے مسلسل تعاون اور سرپرستی سے ادارے میں جدید طبی سہولیات اور اعلیٰ درجے کی مہارت دستیاب ہے، جس کے ذریعے انتہائی پیچیدہ اور جان لیوا قلبی امراض اور ایمرجنسیز کا مؤثر علاج کیا جا رہا ہے۔



