The news is by your side.

Advertisement

این آئی سی وی ڈی اسکینڈل، پیپلزپارٹی کے 4 اہم رہنما طلب

قومی احتساب بیورو (نیب) نے قومی ادارہ برائے امراض قلب این آئی سی وی ڈی اسکینڈل کی ‏تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا۔ ‏

نیب نے پی پی کے ایک صوبائی وزیر، 2 سینیٹرز اور ایک رکن اسمبلی کو طلب کرلیا۔ نیب نے رکن ‏اسمبلی شہلا رضا کو 12 جولائی کو طلب کیا ہے۔ ‏

سینیٹر جام مہتاب ڈہر اور سینیٹر ڈاکٹر سکند مند کے ساتھ ساتھ رکن اسمبلی ڈاکٹر سہراب سرکی ‏کو بھی 12جولائی کو طلب کیا گیا ہے۔

چاروں رہنماؤں کو بطور این آئی سی وی ڈی ممبر آف گورننگ باڈی طلب کیا گیا ہے۔

قومی ادارہ برائے امراض قلب کراچی میں غیر قانونی بھرتیوں اور ٹھیکوں سے متعلق نیب کی ‏تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے تھے۔

نیب نے این آئی سی وی ڈی کے ڈائریکٹر ایچ آر داور حسین، چیف آپریٹنگ افسر عذرا مقصود اور ‏کنسلٹنٹ حیدر اعوان سے ابتدائی تحقیقات مکمل کیں۔

حیدر اعوان نے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے بیان دیا کہ 2015 میں ڈاکٹر ندیم قمر نے فون کر کے ‏جوائننگ کا کہا، جب کہ اپریل 2020 میں کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود تنخواہ جاری ہے۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ حیدر اعوان کو بی اے آرٹس کے باوجود این آئی سی وی ڈی کے اہم عہدے ‏کنسلٹنٹ پر بھرتی کیا گیا، حیدر اعوان نے تحقیقات میں انکشاف کیا کہ اسے تنخواہیں خیراتی فنڈز ‏سے دی جا رہی ہیں۔

دوسری طرف چیف آپریٹنگ افسر این آئی سی وی ڈی عذرا مقصود کا ہاسپٹل منیجمنٹ کا کوئی ‏تجربہ نہیں ہے، یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ انھیں چیف آپریٹنگ افسر کی گریڈ 20 کی اسامی پر ‏‏2015 میں ایڈہاک بیسز پر بھرتی کر کے 6 ماہ میں مستقل کر دیا گیا تھا۔

حیدر اعوان نیب کی تحریری ہدایات کے باوجود اپنی بی اے کی اسناد اور کنسلٹنسی کی رپورٹس ‏پیش کرنے میں ناکام رہے، حیدر اعوان اور عذرا مقصود نے مزید ریکارڈ دینے سے متعلق 2 ہفتوں کا ‏وقت نیب سے دینے کی درخواست کی ہے، جب کہ نیب نے این آئی سی وی ڈی میں مزید اعلیٰ ‏عہدوں پر بیٹھے حکام کو طلب کر کے تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ نیب نے 15 ستمبر 2018 کو قومی ادارہ برائے امراضِ قلب پر چھاپہ مار کر ریکارڈ ‏قبضے میں لیا تھا۔ چھاپہ مبینہ کرپشن کی تحقیقات کےلیے موصول شدہ درخواستوں پر مارا گیا ‏تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں