جمعہ, مارچ 13, 2026
اشتہار

ندا فاضلی: منفرد لب و لہجے کا شاعر

اشتہار

حیرت انگیز

جدید اردو شاعری میں منفرد لب و لہجہ اپناتے ہوئے نئی دنیا بسانے والے ندا فاضلی نے بھارت ہی نہیں پاکستان میں بھی ایک نسل کو اپنی جانب متوجہ کیا اور ان شعرا میں شمار ہوئے جن کے اشعار نوجوان اپنی بیاض‌ کا حصّہ بناتے۔ انھیں شوق سے پڑھا اور مشاعروں میں بڑی توجہ سے سنا جاتا تھا۔ آج ندا فاضلی کی برسی ہے۔

ندا فاضلی ایسے مقبول شاعر تھے جنھوں‌ نے بلاشبہ سادہ اور رواں زبان کے ساتھ نہایت دل نشیں انداز میں ایسی غزلیں کہیں‌ جنھیں قارئین نے بہت پسند کیا۔ وہ غزل گو شاعر ہی نہیں نغمہ نگار، ایک ادیب اور صحافی بھی تھے۔ بنیادی طور پر ندا فاضلی کو شاعر کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن ان کی نثر بھی مقبول ہوئی۔ 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مقتدیٰ حسن تھا۔ والد بھی شاعر تھے، اس لیے گھر میں شعر و شاعری کا چرچا اور کتابیں موجود تھیں اور اس نے ندا فاضلی کو بھی شروع ہی سے اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ طبیعت میں روانی اور شعر موزوں کرنے کی صلاحیت کا ادراک ہوا تو اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا۔ ندا فاضلی کی ابتدائی تعلیم گوالیار میں ہوئی۔ جامعہ سے اردو اور ہندی میں ایم ۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ تعلیم سے فراغت کے بعد تھوڑا عرصہ دہلی اور دوسرے مقامات پر ملازمت کی تلاش میں پھرے اور پھر 1964 میں بمبئی چلے گئے۔ بمبئی میں صحافت کی دنیا میں‌ قدم رکھا اور اپنی شاعری کی بدولت ادبی حلقوں میں متعارف ہوئے۔ وہ مشاعروں کا مقبول نام بن گئے اور ان کے شعری مجموعے کی اشاعت نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔

بمبئی میں‌ فلم نگری سے ندا فاضلی نے کمال امروہی کی بدولت ناتا جوڑا۔ انھوں نے اپنی فلم رضیہ سلطان کے لیے ان سے دو گیت لکھوائے تھے۔ اس کے بعد وہ مکالمہ نویسی طرف متوجہ ہوئے اور معاش کی طرف سے بے فکری ہوئی۔ ندا فاضلی کے شعری مجموعے لفظوں کا پل کے بعد مور ناچ، آنکھ اور خواب کے درمیان، شہر تو میرے ساتھ چل، زندگی کی طرف، شہر میں گاؤں اور کھویا ہوا سا کچھ شائع ہوئے۔ انھوں‌ نے دو سوانحی ناول "دیواروں کے بیچ” اور "دیواروں کے باہر ” کے علاوہ مشہور شعرائے کرام کے خاکے بھی تحریر کیے۔ ندا فاضلی کی شادی ان کی تنگدستی کے زمانہ میں عشرت نام کی اک ٹیچر سے ہوئی تھی لیکن نباہ نہیں ہو سکا۔ پھر مالتی جوشی ان کی رفیقۂ حیات بنیں۔ انھیں‌ ساہتیہ ایوارڈ کے علاوہ سرکاری اور فلمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

8 فروری 2016ء کو ندا فاضلی ممبئی میں انتقال کرگئے تھے۔

ان کا یہ شعر بہت مشہور ہوا۔

گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں