The news is by your side.

نگار ایوارڈز کا انعقاد کھٹائی میں

چند روز قبل پاکستان کے سب سے پرانے فلم ایوارڈز نگار ایوارڈز کے 12 سال بعد انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس ایوارڈ کا انعقاد ایک بار پھر کھٹائی میں پڑتا نظر آرہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک پروڈکشن کمپنی نے نگار ایوارڈز کے منتظمین کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے جس میں منتظمین کو معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا گیا ہے۔

پروڈکشن کمپنی کے مالک اسامہ قاضی کا کہنا ہے کہ نگار ایوارڈز اور ان کی کمپنی کے درمیان معاہدہ کیا گیا تھا کہ اگلے 10 برس تک منعقد کیے جانے والے تمام ایونٹس اور تقریبات دونوں کمپنیوں کی شراکت سے منعقد کیے جائیں گی۔

nigar-2

تاہم اب ان ایوارڈز کا آغاز کرنے والے الیاس راشدی کے بیٹے اسلم راشدی اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

اسامہ قاضی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ گزشتہ برس اپریل میں کیا گیا تھا اور اس کے تحت دونوں پارٹیاں نگار انٹرٹینمنٹ کی 50، 50 فیصد ملکیت رکھتی ہیں۔

تاہم دسمبر میں نگار انتظامیہ کی جانب سے اس معاہدے کو منسوخ کرنے کا نوٹس دیا گیا۔ بعد ازاں نگار ایوارڈز کے انتظامی امور کسی تیسری پارٹی کے حوالے کردیے گئے۔

دوسری جانب اسلم راشدی نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے مذکورہ پروڈکشن کمپنی سے اپنا معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔ ان کے مطابق اسامہ قاضی نگار کے لیے معاہدے کے مطابق خدمات انجام دینے میں ناکام ہوگئے اور اب وہ نگار کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نگار ایوارڈز کی تیاریاں جاری ہیں اور وہ پر امید ہیں کہ 16 مارچ کو وہ اس کے انعقاد میں کامیاب رہیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں